فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)محب وطن پاکستا نی ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے حصے کا ٹیکس ضرور ادا کریں کیونکہ ہمارے دیئے ہوئے ٹیکسوں سے ہی ملکی معیشت کا پہیہ چلتا ہے’ حکومت اس وقت تک عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر سکتی جب تک عوام پوری دیانت داری سے اپنا ٹیکس ادا نہیں کر تے’اان خیالات کا اظہار فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹا لمنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس سے گروپ لیڈر رانا محمد سکندراعظم خاں’ صدر چوہدری حبیب الرحمن گل’ جنرل سیکرٹری ملک محمد علی نے کیا’اجلاس میں ایگزیکٹو باڈی کے ارکان چیئرمین رانا فخر حیات خاں’ سرپرست اعلیٰ چوہدری امانت علی’ سینئر وائس چیئرمین چوہدری مقصود احمد جٹ’ وائس چیئرمین چوہدری عاصم حبیب سمرائ’ فنانس سیکرٹری ملک وقاص احمد’ سینئر نائب صدر چوہدری شوکت جٹ’ نائب صدور میاں نذاکت علی’ خرم شہزاد’ چوہدری امتیاز علی کمبوہ’ رانا ادریس’ رانا طاہر محمود خاں’ ملک سیف الرحمن’ ملک اعجاز احمد’ رانا طارق عزیز’ چوہدری یعقوب گجر’ رانا سعید’ محمد علی ڈوگر’ چوہدری اویس اقبال نے شرکت کی’ مقررین نے کہا کہ حکومت کو ٹیکسوں کی وصولی کا نظام آسان بنانا چاہئے تاکہ عام بندہ بھی آسانی کے ساتھ اپنا ٹیکس جمع کروا سکے’ انہوں نے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری افسران سے ان کی مراعات واپس لی جائیں اور جو وزراء کی فوج در فوج بھرتی کی جا رہی ہے اس کوبھی کم سے کم کیا جائے وگرنہ ہمارا ہر آنے والا بچہ کم از کم چھ لاکھ کا مقروض پیدا ہوگا پاکستان کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ فل الفور اخراجات کو کم سے کم کرے اور پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں جب تک روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جائیں گے اس وقت تک پاکستان قرضوں پر انحصار کرتا رہے گا ‘ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اداروں سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اداروں پر ادارے قائم کرنے کی بجائے اگر ہم موجودہ اداروں میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے اور صرف پاکستان کے اداروں میں پروٹوکول اور کرپشن کا خاتمہ کر دیں تو پاکستان کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا’ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف اور صرف کرپشن اور پروٹوکول ہے ‘اس وقت پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کر نے میں کرپشن کا بہت بڑا ہاتھ ہے جس ملک میں کرپشن کو ختم کرنے والے ادارے خود کرپشن کریں وہاں پر ملک ترقی نہیں کرتے ضرورت اس امر کی ہے کہ پروٹوکول اور کرپشن کا خاتمہ کر کے پاکستان کو حقیقی ترقی کی طرف گامزن کیا جائے اس وقت پاکستان کے کسی بھی ادارے میں کوئی کام رشوت کے بغیر یا واقفیت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے اگر اداروں میں شفافیت پیدا کر دی جائے تو کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی اس کے لیے ہم سب کو مل کر اجتماعی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں جس ملک کی جڑیں کرپشن سے کھوکھلی کر دی جائیں تو وہاں پر خرابیاں جنم لیتی ہیں اس لیے بطور پاکستانی ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملکی ترقی استحکام اور بقا کے لیے مل جل کر جدوجہد کرے۔




