پچاس فیصد سے زائد بیماریاں حشرات پھیلاتے ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) انسانوں اور جانوروں میں پچاس فیصد سے زائد بیماریاں پھیلانے کا سبب حشرات بنتے ہیں اگر حشرات کی وجہ سے بیماریاں پیدا کرنے والے عناصر پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جائیں تو اس سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ چوتھی ورکشاپ برائے ”حشرات اور ان سے پیدا ہونے والی بیماریوں” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا انعقاد مالیکیولر پیراسٹالوجی اور ون ہیلتھ لیبارٹری ڈیپارٹمنٹ آف پیراسٹالوجی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے کیا۔ جس میں ماحول میں پائے جانے والے حشرات اور ان سے متعلقہ بیماریوں کے بارے میں تحقیقی نتائج بیان کیے گئے اور ان کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ممکنہ حفاظتی اقدامات اور سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر مظہر ایاز وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنس بہاولپور تھے جبکہ ڈین کلیہ بیطاری پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود ، چیئرمین پیراسٹالوجی ڈاکٹر محمد سہیل ساجد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر مظہر ایاز نے کہا کہ حشرات کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریاں سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہیں جس پر قابو پانے کے لئے ماہرین کو جدید طریقہ کار اور تحقیقات کو عمل میں لاتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ ڈاکٹر شاہد محمود نے کہا کہ حشرات کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں میں ریزروائر ہوسٹ بشمول چوہے، چڑیاں و دیگر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فیکلٹی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے تمام کوششیں عمل میں لا رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد سہیل ساجد نے کہا کہ ان کی زیرنگرانی تحقیقی پراجیکٹ برائے ون ہیلتھ کے تناظر میں حشرات اور بیماریاں کے تحت ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں جس میں کاشتکاروں کو روایتی فارم سے ہٹ کر جدید فارمنگ کی طرف راغب کیا گیا تاکہ ان بیماریوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ اموات مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر مستقبل کے لئے تحقیقات عمل میں لا رہے ہیں۔ کلینیکل، میڈیسن اینڈ سرجری کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ثاقب، ڈاکٹر ضیاء الدین سندھو، ڈاکٹر محمد عبداللہ ملک، ڈاکٹر محمد ذیشان، ڈاکٹر محمد عمران، ڈاکٹر محمد کاسب خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں