نوبل انعام،نامزدگی ،انتخابات کا مکمل عمل سخت نگرانی میں ہوتا ہے

نیو یار ک ( مانیٹرنگ ڈیسک )نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے والوں کے نام 50سال تک خفیہ کیوں رکھے جاتے ہیں۔اس سال کے نوبل انعامات کے اعلانات پیر سے شروع ہو رہے ہیں، جن کا آغاز طب(میڈیسن)کے انعام سے کیا جائیگا۔ دنیا کے سب سے معتبر اعزازات میں شمار ہونے والے نوبل انعامات کے انتخابی عمل کو ہمیشہ راز میں رکھا جاتا ہے۔ یہی راز داری دراصل اس انعام کے وقار اور غیر جانب داری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔نوبل انعام کے انتخاب کا پورا عمل سخت نگرانی میں ہوتا ہے، جہاں امیدواروں (nominees) اور نامزد کنندگان (nominators) دونوں کے نام پچاس سال تک خفیہ رکھے جاتے ہیں۔اس طویل رازداری کا مقصد بیرونی دبا، میڈیا قیاس آرائیوں، اور سیاسی اثرات سے بچنا ہے تاکہ فیصلہ صرف میرٹ اور سائنسی یا انسانی خدمات کی بنیاد پر ہو۔یہ پالیسی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کسی بھی امیدوار یا ادارے پر عوامی یا حکومتی دبا نہ ڈالا جا سکے اور انعام کی ساکھ ہمیشہ برقرار رہے۔نوبل انعام کے لیے نامزدگی صرف چند منتخب حلقوں تک محدود ہوتی ہے۔ان میں یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، ماضی کے نوبل انعام یافتگان، مختلف ممالک کی پارلیمانوں کے ارکان، حکومتی نمائندے، اور امن سے متعلق تحقیقی اداروں کے ڈائریکٹرز شامل ہیں۔اس میں خود کو نامزد کرنے (self-nomination) کی اجازت ہرگز نہیں۔جب نامزدگی کا عمل ختم ہو جاتا ہے، تو طب، فزکس، کیمسٹری، ادب، امن، اور معاشیات سمیت ہر شعبے کے ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں نامزد امیدواروں کے کارناموں کا تفصیلی جائزہ لیتی ہیں۔یہ کمیٹیاں کئی ماہ تک رپورٹس تیار کرتی ہیں اور امیدواروں کی خدمات کا موازنہ الفریڈ نوبل کی وصیت میں درج اصولوں سے کرتی ہیں، جن میں انسانیت کی بھلائی اور امن کا فروغ مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔نوبل امن انعام کے لیے انتخاب ناروے کی پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ پانچ رکنی نوبل کمیٹی کرتی ہے۔یہ کمیٹی درجنوں امیدواروں میں سے ایک شارٹ لسٹ تیار کرتی ہے، اور پھر ماہرین سے مزید مشورے حاصل کرتی ہے۔بہار سے لے کر خزاں تک جاری رہنے والے اجلاسوں میں امیدواروں پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔آخر میں فیصلہ ممکنہ حد تک اتفاقِ رائے (consensus) سے کیا جاتا ہے، تاہم اگر اتفاق نہ ہو سکے تو ووٹنگ کے ذریعے اکثریتی فیصلہ نافذ کیا جاتا ہے، جسے اکتوبر میں باضابطہ اعلان سے قبل حتمی شکل دی جاتی ہے۔ادب کے نوبل انعام کے لیے سویڈش اکیڈمی ایک ایسا ہی خفیہ اور محتاط عمل اپناتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں