پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک تنازعہ کی حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد ( بیو رو چیف )سر کریک دراصل ایک پتلی آبی پٹی ہے جو پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارت کی ریاست گجرات کے درمیان واقع ہے، تقریبا 96کلومیٹر طویل یہ پٹی “رن آف کچھ” کے دلدلی علاقے میں بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی ہے، اس علاقے کی دلدلی نوعیت کی وجہ سے پانی کے بہا اور زمین کے نقشے میں وقتا فوقتا تبدیلی آتی رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک اس کے سرحدی تعین پر مختلف مقف رکھتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں:سیلاب متاثرین کی مالی معاونت کا عمل کب شروع ہوگا؟ ریلیف کمشنر پنجاب نے بتا دیا پاکستان کا مقف ہے کہ برطانوی دور کے نقشے کے مطابق سرحد سر کریک کے مشرقی کنارے سے گزرتی ہے، جب کہ بھارت کے مطابق یہ تھل ویگ لائن (Thalweg Line) کے اصول کے تحت پانی کے بیچوں بیچ ہونی چاہیے۔ اس تنازع کا اثر صرف سرحدی لائن تک محدود نہیں بلکہ ماہی گیری، تیل و گیس کے وسائل، اور اقتصادی زونز جیسے بڑے مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے، اگر کسی ایک ملک کو سر کریک پر مکمل کنٹرول مل جائے تو وہ اپنی اقتصادی حدود (Exclusive Economic Zone) میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جہاں سے اربوں روپے کے وسائل حاصل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مسئلے پر کئی مرتبہ فوجی و سفارتی سطح پر مذاکرات ہوئے، تکنیکی ٹیموں نے سروے بھی کیے، مگر کسی نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا، نتیجتاً سر کریک کا یہ تنازع آج بھی حل طلب ہے اور وقتا ًفوقتاً دونوں ممالک کے تعلقات میں تنا کی نئی لہر پیدا کرتا رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں