زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے سبز انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے،VCزرعی یونیورسٹی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) محکمہ زراعت پنجاب کے زیر اہتمام قائم کردہ ریجنل ایگریکلچر فورم سینٹرل پنجاب کے اجلاس میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ غذائی استحکام اور زرعی و دیہی ترقی کیلئے تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز، توسیع (ایکسٹینشن) ، کاشتکار برادری اور صنعت مل کر مشترکہ کاوشیں عمل میں لائیں گے تاکہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے سبزانقلاب برپا کیا جا سکے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکیٹ روم میں منعقدہ اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کی جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس محکمہ زراعت شبیر احمد خاں، چیف زرعی سائنسدان ایوب ریسرچ ڈاکٹر قربان علی، ڈاکٹر جاوید احمد، ڈاکٹر محمد اعجاز؛ ڈائریکٹرز محکمہ زراعت توسیع پنجاب عارف صدیق، خالد محمود، شاہد حسین، شکیل احمد، عرفان اللہ؛ ترقی پسند کاشتکار سید فیصل حسن شاہ، رفحان میز سے ڈاکٹر خالد عزیز، فور برادرز سے محمد ادریس، فارم ڈائنامکس سے احسان باجوہ، زرعی یونیورسٹی کے ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، ڈائریکٹر ایگریکلچر پالیسی ڈاکٹر آصف کامران، ڈائریکٹر گریجویٹ سٹڈیز ڈاکٹر خالد بشیر، ڈائریکٹر آؤٹ ریچ ڈاکٹر ارشاد رسول، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز ڈاکٹر محمد تحسین اظہر، ڈائریکٹر اکیڈمک ڈاکٹر حافظہ شافعہ تحسین گل و دیگر نے شرکت کی۔ وسطی پنجاب زرعی فورم چھ ڈویژنوں پر مشتمل ہے۔ جن میں فیصل آباد، لاہور، ساہیوال، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ شامل ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے فصلوں کے لحاظ سے مشترکہ کوششوں کو بڑھایا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی کی نمائش اور کاشتکاروں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر ڈیمانسٹریشن فیلڈز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں موجود ترقی کے امکانات سے استفادہ کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ زرعی شعبے کو موجود چیلنجز سے نبردآزما ہوتے ہوئے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اجلاس میں رواں سال نومبر میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور محکمہ زراعت توسیع کے زیر اہتمام چلائی جانے والی گندم مہم کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس مہم کے دوران موجودہ زرعی صورتحال پر کاشتکاروں کے تاثرات کو سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا جائے گا تاکہ پالیسی سفارشات تیار کی جا سکیں۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کے ماہرین کی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایڈجنکٹ فیکلٹی کے طور پر شمولیت کے پہلو پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزیدبرآں اجلاس میں مضبوط مستحکم اکیڈیمیا انڈسٹری تعلقات، علم کے تبادلے ، اختراعات کو فروغ، تحقیق کو کاشتکاروں تک پہنچانے سمیت مختلف امور پر روشنی ڈالی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں