پاکستانی خدام الحجاج کی عالمی معیار کی جدید تربیت

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج 2026کو پاکستانی عازمین کے لیے سہل بنانے کی جانب قدم اٹھاتے ہوئے انڈونیشیا، ترکیہ اور ملائیشیا کی طرز پر بین الاقوامی بہترین روایات پر مبنی خدام الحجاج کی 10روزہ جدید تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔جاری کیے گئے بیان کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستانی خدام کو محض روایتی بریفنگ کے بجائے سروے آف پاکستان کے تیار کردہ ڈیجیٹل میپس، ریسکیو 1122کی لائف سیونگ مہارتوں اور اسلام آباد پولیس کے کراڈ مینجمنٹ ماڈیولز کے ذریعے لیس کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عازمینِ حج کو مکہ، مدینہ اور مشاہیر (منی، مزدلفہ، عرفات) میں کسی بھی مشکل کے وقت فوری اور پیشہ ورانہ مدد فراہم کرنا ہے۔ حج آپریشن شروع ہونے سے قبل خدام الحجاج کی سپیشلائزڈ ٹریننگ ہوگی۔کوآرڈینیٹر مکہ و خدام الحجاج ذوالفقار خان نے بتایا کہ اس بار ہم نے عالمی معیار کا مطالعہ کر کے ٹریننگ ماڈیولز ترتیب دیے ہیں۔ ہم نے سروے آف پاکستان کے ماہرین کو مدعو کر کے اپنے خدام کو ڈیجیٹل میپ ریڈنگ سکھائی ہے تاکہ وہ سمارٹ فونز اور پاور پوائنٹ میپس کے ذریعے حاجیوں کی درست رہنمائی کر سکیں۔ 10 دن کی اس تربیت میں پہلی بار ریسکیو 1122 کے ذریعے سی پی آر اور ایمرجنسی طبی امداد کی موک ایکسرسائزز کروائی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک مشترکہ تربیت جو کہ مکمل ہو چکی ہے جبکہ دوسری فنکشنل لیول کی سپیشلائزڈ ٹریننگ حج آپریشن سے قبل مکمل کر لی جائے گی ۔ اس میں فوڈ، ٹرانسپورٹ اور بلڈنگ ٹیموں کو ان کی جاب ڈیسک کے مطابق مخصوص تربیت دی جائے گی تاکہ وہ فیلڈ میں کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔تربیتی عمل کی شفافیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ذوالفقار خان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ کے ہر سیشن کے اختتام پرآن لائن سوالات کے ذریعے شرکا کی حاضر دماغی کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ کوآرڈینیٹر مکہ و خدام الحجاج نے بتایا کہ ہم نے اسلام آباد پولیس کے تعاون سے روڈ مینجمنٹ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذریعے بنیادی عربی زبان کی مشقیں بھی کروائی ہیں تاکہ وہاں زبان کا مسئلہ حائل نہ ہو۔ حج 2026 میں خواتین معاونین کی بڑی تعداد شامل ہے جو فیلڈ میں جینڈر ایکویلٹی کو یقینی بنائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار مدینہ سے مکہ کے لیے ٹرین سروس اور مشاہیر کے لیے مخصوص بسوں کا نظام بنایا گیا ہے جو حجاج کے ساتھ ہی رہیں گی تاکہ ٹریفک کے دبا سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں