بجٹ مزدوروں کا نہیں دو فیصد اشرافیہ کیلئے ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان ریلوے پریم یونین کے چیئرمین محمد ضیا الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور،سیکرٹری جنرل خیر محمدتونیو، سینئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان، چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری،ڈپٹی چیف آرگنائزر جنیدخرم،ڈپٹی میڈیا کوآرڈی نیٹر عاطف رزاق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ بجٹ پاکستان کے مظلوم، مجبور، غلام عوام اور مزدوروں کا بجٹ نہیں بلکہ یہ عوامی امنگوں کے بھی مطابق نہیں ہے۔ یہ بجٹ صرف دو فیصد اشرافیہ اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ بھی عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان نہیں رہی بلکہ یہ دو فیصد اشرافیہ کا ایک کلب بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 98 فیصد عوام کو سیاسی، علاقائی، مسلکی اور دیگر تعصبات میں تقسیم کر کے اشرافیہ اپنے تمام اختلافات اور وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے 98 فیصد عوام اس استحصالی اشرافیہ کے خلاف اپنے حقوق کے حصول کیلئے عملی جدوجہد کا فیصلہ کریں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا۔انہوں نے کہاکہ ریاست پاکستان کی عسکری اور سفارتی فتوحات کو نقصان پہنچانے کے لیے اندرون و بیرون ملک دشمن عناصر کے ایجنٹوں نے موجودہ بجٹ پیش کر کے ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت پہنچائی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بجٹ سے پاکستان کے عام آدمی کی ریاست پاکستان سے محبت اور وابستگی کمزور ہوئی ہے، جس پر ریاستی اداروں کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، ادویات، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں صرف سات فیصد اضافہ دراصل ملازمین اور پنشنرز کے معاشی مسائل میں کمی کے بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔ لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز بجٹ سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے، مگر انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں