پاکستان بار بار IMFکے دروازے پر کیوں؟

پاکستان کی معیشت ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرا م کے سہارے استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کو ادائیگیوں کے توازن، زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی خساروں جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث پاکستان متعدد مرتبہ آئی ایم ایف سے مالی معاونت حاصل کر چکا ہے۔ اس صورتحال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر دنیا کے دیگر ممالک نے آئی ایم ایف پر انحصار کم یا ختم کرنے کے لیے کون سی حکمت عملی اپنائی؟ معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام عموماً ان ممالک کے لیے ایک ہنگامی سہارا ثابت ہوتے ہیں جو شد ید مالیاتی دبائو، بیرونی قرضو ں کے بحران یا زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہوں۔ تاہم کئی ممالک نے طویل المدتی اصلا حا ت ، برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور مالی نظم و ضبط کے ذریعے خود کو ایسے حالات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا۔بھارت کی مثال اس حوالے سے نمایاں ہے۔ بھارت نے آخری مرتبہ 1991میں شدید زرِ مبادلہ بحرا ن کے دوران آئی ایم ایف سے مدد حاصل کی تھی۔ اس کے بعد معاشی اصلاحات، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، برآمدات میں توسیع اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ نے اسے دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت سے دور رکھا۔ ملائشیا نے 1997-98کے ایشیائی مالیاتی بحران کے دوران ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس وقت جنوبی کوریا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن آئی ایم ایف کے پاس گئے، لیکن ملائشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے سخت داخلی معاشی اقدامات اور سرمایہ کے بہائو پر کنٹرول کے ذریعے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی۔ترکیہ نے اپنا آخری آئی ایم ایف پروگرام 2005میں مکمل کیا تھا۔ بعد ازاں بینکاری اصلاحات، صنعتی پیداوار اور برآمدی شعبے کی مضبوطی کے باعث ملک نے دو دہائیوں تک آئی ایم ایف سے دوری برقرار رکھی۔اسی طرح ایران نے 1959کے بعد، چین نے 1986کے بعد، جاپان نے 1964کے بعد اور جرمنی نے 1970کے بعد آئی ایم ایف کے مالیاتی پروگراموں سے رجوع نہیں کیا۔ تھائی لینڈ نے 1997کے ایشیائی بحران کے بعد اور ویت نام نے 2001کے بعد اپنی معیشتوں کو اس انداز میں استوار کیا کہ انہیں دوبارہ آئی ایم ایف کے پروگراموں کی ضرورت پیش نہ آئی ۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی پائیدار اقتصاد ی خودمختار ی کا انحصار مضبوط ٹیکس نظام ،برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور حکومتی اخراجات میں نظم و ضبط پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھی قلیل مدتی قرضوں کے بجائے طویل المدتی معاشی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ بار بار بیرونی مالیاتی امداد کی ضرورت کم کی جا سکے۔ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی معاشی تاریخ میں بار بار آئی ایم ایف پروگراموں کی جانب رجوع کرنے کی بنیادی وجوہات کمزور مالیاتی نظم و نسق، محدود برآمدی بنیاد، درآمدات پر انحصار اور پالیسیوں کا عدم تسلسل رہی ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی معاشی حکمت عملی میں تسلسل ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔اقتصادی حلقوں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس کیوں جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ملک کب ایسی پائیدار معاشی بنیادیں قائم کرے گا جو اسے بیرونی مالیاتی سہاروں سے مستقل نجات دلا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں