کراچی (بیوروچیف) مشرق وسطی میں جاری جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچنے لگے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں تجارتی خسارہ 5 ارب ڈالر اضافے سے28ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستانی برآمدات میں بھی 8فیصد سے زائد کمی ریکارڈ، حجم23ارب ڈالر سے نیچے آگیا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر اور چاول سمیت متعدد غذائی اجناس کی برآمدات متاثر ہوئیں۔مشرق وسطی میں کشیدگی اور تجارتی راستوں کی بندش کے اثرات اب پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے۔رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں تقریبا 23 فیصد یعنی 5 ارب ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی تا مارچ خسارہ بڑھ کر تقریبا 28 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں تجارتی خسارہ22 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا مارچ پاکستانی برآمدات میں بھی 8فیصد یعنی 2 ارب ڈالر تک کمی آئی، جس کے بعد برآمدات24 ارب 71 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 22 ارب 73 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔دوسری جانب درآمدات میں اضافہ6.64 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔مجموعی حجم 50 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔۔ٹیکسٹائل، چاول، پھل اور سبزیوں سمیت مختلف شعبے متاثر ہوئے۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 14.40 فیصد کمی آئی اور حجم 2 ارب 64 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 2 ارب 26 کروڑ ڈالر پر آگیا۔ فروری کے مقابلے مارچ 2026 میں برآمدات میں 0.55 فیصد تک کمی آئی۔ گزشتہ ماہ سالانہ بنیاد پر درآمدات 5.57 فیصد تک کم ہوئیں اورحجم 5 ارب 27 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر4 ارب 99 کروڑ رہ گیا۔ماہانہ بنیاد پر درآمدات گرنے سے تجارتی خسارے میں 9.36 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ مشرق وسطی میں جنگ طویل ہونے سے تجارتی سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔




