تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4کی 97ویں لہر کے دوران خلیج فارس اور ملحقہ علاقوں میں متعدد امریکی و اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اسرائیلی امریکی حملوں میں آج 6بچوں سمیت 24ایرانی شہید ہو گئے۔پاسدارانِ انقلاب کے شعب تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 4کے تحت کی گئی اس کارروائی کو ایرانی وزارتِ توانائی کے ملازمین کے نام کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق کویت میں محمد الاحمد بحری اڈے کے قریب ایک مقام پر موجود امریکی کمانڈرز اور افسران کے اجتماع کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں ایمبولینسز کی بڑی تعداد میں آمد و رفت بھاری جانی نقصان کی نشاندہی کرتی ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ کے چینل میں موجود کنگ ڈا سٹار نامی ایک اسرائیلی جہاز کو قدر نیول کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی، متحدہ امارات میں 25امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تحت گزشتہ روز سے اب تک کئی جہازوں کو بغیر اجازت آمد و رفت سے روکا گیا اور انہیں آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی اینکریج کی جانب منتقل کیا گیا، جبکہ اسرائیلی شہر بئر السبع میں بھی صہیونی فوج سے منسلک صنعتی علاقے کو ایرو سپیس فورس نے نشانہ بنایا۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے تہران پر حملے میں 6بچے شہید ہو گئے، مختلف شہروں پر امریکی اسرائیلی حملوں میں شہادتوں کی تعداد 24ہو گئی، ایران پر حملوں میں اب تک 2ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔امریکا اسرائیل نے تہران یونیورسٹی کو نشانہ بنایا، حملوں میں تہران یونیورسٹی کی مسجد اور گیس سٹیشن کو نقصان پہنچا، جنگ کے آغاز سے امریکا اور اسرائیل درجنوں مساجد،اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔امریکا اسرائیل کی ایرانی دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقے میں اندھادھند بمباری سے 3رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، 50عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق حیفہ پر ایرانی میزائل حملوں سے شدید تباہی ہوئی، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، ایرانی حملے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے 4افراد دب گئے، حیفہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 2لاشیں برآمد ہوئیں۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے صوبہ بوشہر میں ایک اور حملہ کیا گیا ہے جہاں ایک بڑا جوہری بجلی گھر بھی واقع ہے، اس علاقے میں مسلسل حملوں کے باعث نہ صرف مقامی بلکہ علاقائی سطح پر بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ کہیں چرنوبل پلانٹ جیسا کوئی بڑا سانحہ جنم نہ لے۔ایران کے شہر اہواز میں بھی متعدد حملے کیے گئے ہیں جن میں وہاں کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ مشرقی تہران کے قریب بھی حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان کی سرحد کے ساتھ اسرائیلی افواج اور تنصیبات پر متعدد حملے کیے ہیں۔تنظیم کے بیان کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے شاما کے قریب اسرائیلی فوج کو نشانہ بنانے کیلئے دھماکہ خیز آلات نصب کیے گئے جبکہ بعد میں موقع پر پہنچنے والی امدادی ٹیم پر بھی حملہ کیا گیا۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایناتا کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور اجتماع گاہوں پر راکٹ حملے کیے، اس کے علاوہ خیام کے مشرقی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔تنظیم کے مطابق شمالی اسرائیل کے مختلف شہروں کی جانب بھی راکٹ فائر کیے گئے، جبکہ شمالی اسرائیل میں واقع میرون کے فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو بھی ہدف بنایا گیا۔اردنی فوج کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے 2میزائل اور 2ڈرون اردن کی فضائی حدود میں مار گرائے گئے۔دریں اثنا ئنیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کے لئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان، مصر اور ترکیہ کی جانب سے سفارتکاری کا عمل جاری رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ واحد موقع ہے۔دریں اثناء ۔واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا ایران اور خطے کے ثالث ممالک ایران میں جنگ کے ممکنہ خاتمے کے لیے45دن کی عارضی جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں جس سے مستقل جنگ بندی تک کا راستہ نکل سکتا ہے۔امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ایگزوس کی رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔اس حوالے سے وائٹ ہاس اور امریکی محکمہ خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے۔ قبل ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعوی کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ واحد موقع ہے۔یاد رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ ثالثی کے حوالے سے بھارتی میڈیا جھوٹے پراپیگنڈے میں مصروف ہے جس کی وجہ سے سفارت کاری کے متعلق خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔




