فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) امریکہ’ ایران جنگ کے اثرات’ پاکستان میں توانائی بحران شدید’ کمرشل’ گھریلو صارفین پریشان’ گیس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر’ گھریلو صارفین کو صرف دو’ دو گھنٹے کم پریشر کے ساتھ گیس ملنے لگی’ بجلی کی بندش بھی بڑھ گئی’ صنعتیں بند ہونے لگیں’ تاجر وصنعتی تنظیمیں سراپا احتجاج’ LPG فروخت کرنے والوں کے وارے نیارے’ پیرافورس سمیت کوئی ادارہ انہیں پوچھنے والا نظر نہیں آتا’ صارفین سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ تفصیل کے مطابق امریکہ’ ایران جنگ کے اثرات گہرے ہونے لگے ہیں اور پاکستان میں توانائی بحران بڑھنے لگا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ہر خاص وعام کو متاثر کیا ہے اور اسے جواز بنا کر ہر چیز مہنگے داموں فروخت ہونے لگی ہے، گیس بحران نے بھی کمرشل وگھریلو صارفین کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں اور گھریلو صارفین کو دن میں صرف دو، دو گھنٹے صبح وشام گیس مل رہی ہے جس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ چولہا جلا کر کھانا اور روٹی بنانا بھی ممکن نہیں ہے۔ کمرشل صارفین بھی گیس بحران سے پریشان اور صعنتیں بند ہونے لگی ہیں جس سے ملک میں بیروزگاری بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں LPG فروخت کرنے والوں کی ”چاندی” ہو گئی اور اسے مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پیرافورس سمیت کوئی ادارہ ان کو ”لگام” ڈالنے کیلئے متحرک نظر نہیں آتا۔ عوامی’ سماجی اور کاروباری حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں۔




