ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں بڑھتے ہوئے معاشی دبائو اور توانائی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں مہنگی گیس اور پیٹرول کی قلت کے باعث صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ ملک بھر میں لاکھوں مزدور روزگار سے محروم ہو کر شہروں سے دیہات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں، جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ سنگاپور کے جریدہ “دی اسٹریٹس ٹائمز” نے مودی سرکارکی نااہلی اورناکام حکمت عملی کے عوام پر منفی اثرات عیاں کردیئے.دی اسٹریٹس ٹائمزکے مطابق توانائی بحران نے بھارتی عوام کو شہروں سے دیہات کی طرف نقل مکانی پرمجبور کر دیا ہے,ایران جنگ کیباعث مارچ کے وسط سے ہی بھارت میں گیس کی فراہمی غیریقینی اور قیمتیں 4گنا بڑھ گئی ہیں,پیٹرولیم اور گیس پرمنحصرچھوٹی اوربڑی بھارتی فیکٹریاں سپلائی کی کمی کے باعث بند یا انتہائی محدود ہو چکی ہیں.دی اسٹریٹس ٹائمز کیمطابق بھارت کے صرف ایک شہر”سورت” کی ٹیکسٹائل صنعت کے تقریبا ڈیڑھ لاکھ مزدورکام نہ ہونے کیباعث واپس گھروں کو جاچکے ہیں.ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلسل گرتی معیشت، عوام پر بھاری بوجھ اور تیل و گیس کی قلت جیسے بحران نے بھارتی شہریوں کو پتھر کے دورمیں دھکیل دیا ہے,حالیہ بحران نیکھوکھلے دعوں اور جعلی نعروں پر مبنی مودی سرکار کے نام نہاد شائننگ انڈیا کا پردہ بھی چاک کردیا ہے ۔




