واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں رنگ لے آئیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے ایران پر بڑے حملے کی ڈیڈ لائن میں 2ہفتے کی توسیع کر دی، ایران بھی پاکستان کی تجویز مانتے ہوئے عارضی جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو 2ہفتوں کیلئے موخر کر دیا گیا ہے اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی نافذ رہے گی۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران کے خلاف فوری کارروائی موخر کرنے کی درخواست کی تھی۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولنے پر آمادہ ہو جائے، اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور دیرپا امن کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے بیشتر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گی۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بطور امریکی صدر اور مشرق وسطی کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ایک اعزاز ہے، امید ہے کہ جلد ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے گا۔خیال رہے کہ اس سے کچھ دیر قبل ہی وزیراعظم پاکستان نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔وزیراعظم پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو بھی 2 ہفتوں کیلئے کھولنے کی درخواست کی تھی تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔ ایرانی میڈیا نے کہا کہ ایران مخالف بیان بازی سے ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی ہوئی جبکہ ایرانی وزیر خا رجہ عباس عراقچی نے کہا ایران پر حملے رک گئے تو ایران بھی حملے روک دے گا، ایرانی فوج سے رابطے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے 2ہفتے تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کی شرائط مان لیں جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔وائٹ ہائوس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔وائٹ ہائوس کے عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران پر بمباری روک دی ہے اور وہ بھی مذاکرات میں شامل ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کی ڈیڈ لائن سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی جنگ بندی کا اعلان کیا۔دریں اثنا ۔اسلام آباد(بیوروچیف) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے امریکی و ایرانی وفود کو 10اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی۔فریقین کی جانب جنگ بندی پر اتفاق کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ مجھے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان اور دیگر جگہوں پر فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس پرتپاک اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور تمام تنازعات کے تصفیہ اور ایک حتمی معاہدے کیلئے مزید بات چیت کیلئے جمعہ 10اپریل 2026 کو فریقین کے وفود کو اسلام آباد میں مدعو کرتا ہوں۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ فریقین نے قابل ذکر حکمت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور امن واستحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف عمل رہے ہیں، ہمیں پوری امید ہے کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے، مزید اچھی چیزیں بانٹنا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں 2ہفتوں کی توسیع کی جائے، انہوں نے ایران سے بھی آبنائے ہرمز کو 2ہفتوں کیلئے کھولنے کی درخواست کی تھی، جس پر فریقین نے رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔




