واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) یران اور امریکا جنگ کی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے چند گھنٹے پہلے دلچسپ اور تیز تر سفارتی کوششوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔اس حوالے سے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات سے کنارہ کشی کے اشارے کے بعد ہنگامی سفارت کاری کا آغاز ہوا، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ نے ایرانی ہم منصبوں سے رابطے کیے۔امریکی اخبار نے کہا ہے کہ قطر، مصر اور ترکیہ نے ایرانی قیادت سے رابطے کیے، آبنائے ہرمز کے لیے بالآخر چین میدان میں کودا، چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے پر ایران کو آخری وقت رضامند کروایا گیا۔چین نے ایران کو کہا کہ اس کے اتحادیوں پر بھی جنگ کے اثرات ہیں، چین نے ایران کو بتایا کہ یہ راستہ ایران کے لیے واحد موقع ہے، ایران سے ممکنہ سیز فائر کے خدوخال پر بات چیت کی گئی۔امریکی اخبار نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی وقت شام 5 بجے صدر ٹرمپ کو سیز فائر کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران ان نکات پر راضی ہے تو میں بھی راضی ہوں، ٹرمپ نے فورا نیتن یاہو کو 2 ہفتے کی توسیع کے بارے میں مطلع کیا۔




