لاقانونیت کا سمندر اور تحفظ کے جزیرے

بلاشبہ امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کے نکات پر اتفاق کے ذریعے تباہی کو روکنا اور امن کو راستہ دینے میں کامیاب ہونا پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز اور خوشی ، اطمینان اور انبساط سے بھر پور ایک قابل فخر لمحہ ہے مگر اس کمائی گئی عزت کو بچانے کا واحد راستہ پاکستان کے اندرونی امن سے ہو کر گزرتا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان افغانستان کے رستے ہوئے زخم پر بھی مرہم رکھنے کی طرف متوجہ ہو اور ملک کے اندر بھی افہام وتفہیم کی راہ ہموار کی جائے – ملک کے اندر جاری بے چینی اور طاقت ور جنتا کے ذریعے قابض حکمران طبقہ کے خلاف نفرت کی دیواریں محض بیرونی سفارتی کامیابیوں سے نہیں گریں گی- نظام حکومت کو اسلام کے شورائی جمہوری تصورات ، قانون کی حکمرانی ، عدل کی فراہمی اور معیشت کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے ذریعے اسلام کے عدل اجتماعی کے پائیدار اصولوں پر استوار کرنا پڑیگا۔کرپٹ اشرا فیہ برسراقتدار سیاست دانوں کی شکل میں ہو ، ججوں، جرنیلوں ، بیوروکریسی ، سرمایہ داروں ، جاگیرداروں یا کارپوریٹ بلائوں کی صورت میں ان سب کو قانون کے شکنجے میں لاکر لوٹی ہوئی دولت اور مال حرام نکلوایا جائے تو ملک قرضوں ، غربت ، مہنگائی اور معیشت کی تنگی سے نجات پا سکتا ہے ورنہ بیرونی امن کبھی بھی اندرونی استحکام کا باعث نہیں بن سکے گا – یاد رہے معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں ظلم پر نہیں لہذا آمریت کی بساط لپیٹ کر شہری آزادیوں کو بحال کرنا ہوگا – اختلاف رائے کو ملک دشمنی کا نام دینے کا سلسلہ ترک کیا جائے – اپنے کاسہ لیسوں کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنا اور اور ہر مخالف آواز پر غداری کے تازیانے برسانا بند کیا جائے ۔حکومتی مشنری کو گھر کی لونڈی کی بجائے ریاست کے کارپرزیکے طور پر کام کرنے کے لیے آزادانہ ماحول دیا جائے – پدی دناغ اور بڑے لمبے ہاتھ پاں رکھنے والے دولے شاہ کے جو چوہے بیوروکریٹ بن کر لقموں کے لقمانوں کی صورت دمیں ہلاتے پھرتے ہیں ان کی اصلاح اور بیخ کنی کرنا ہو گی – ضمیر کی آواز کو دبا کر بے ضمیروں کی منڈی لگانے کے قبیح فعل سے توبہ کی جائے – یہ بھی یاد رکھا جائے کہ لاقانویت کے سمندر میں تحفظ کے جزیرے نہیں رہ سکتے ۔ کوئی جواز ظلم کو بنیادیں فراہم نہیں کیا کرتا ۔تشدد، جیلیں اور تازیانے گردنوں کو جھکا کر رکھ سکتے ہیں دلوں کو فتح نہیں کر سکتے ۔ہاں خدا کی چکیاں آہستہ پیستی ہیں مگر یہ بھی تو ہے کہ بہت بار یک پیستی ہیں۔آہ کو اگرچہ اک عمر چاہیے اثر ہونے تک مگر وہ عرش ہلا کر رکھ دیتی ہے۔جس طرح غلط کی درستگی کر کے ، قانون کی قوت نافذہ کی سمت درست کر کے ، کرپٹ مافیا کو ہٹا کر اور عوام کو حقوق لوٹا کر سری لنکا ، نیپال اور بنگلہ دیش اپنے اپنے ملک کو درست راستے پر لا رہے ہیں ۔پاکستان کیوں ایسا نہیں کرسکتا بلکہ کیوں نہیں کر رہا ۔ہم کب تک سامراجی طاقتوں کا مہرہ بنے رہیں گے بے مہر تو ہو چکے کیا اب مٹ جانے کا انتظار ہے – جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو ، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا اور تن داغ داغ تو لٹا دیا ۔ اب لوٹ آ اپنے رب کی رحمت اور مغفرت کی طرف – ورنہ مرضی کے مریض کے پاس کہنے کو بس یہی رہ جائے گا کہ اچھا خدا کی مرضی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں