دعائے عرفہ… امام حسین علیہ السلام کے دعائیہ ادب کا شاہکار

یہ بات ہر ذی شعور پر روز روشن کی طرح عیاں اور ہمہ قسمی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ قرآن مجید اپنے آغاز نزول سے لے کر آج تک لاریب و بے عیب کتاب اور انسان کے لیے زندگی ساز دستور ہے۔ اس لافانی دستور کے مطابق مخلوق کے لئے اپنے خالق سے رابطے کا بہترین ذریعہ دعا و مناجات ہے دعا ومناجات ایک قرآنی حکم ہے اور قرآن کریم کی متعدد آیات میں اللہ تعالی نے بندوں کو مختلف طریقوں سے دعا اور اپنی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے آداب بھی سکھائے ہیں۔ یہ حکم کئی صورتوں میں آیا ہے جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں فرمانِ الہی ہے ”ادعونِی” مجھے پکارو ، مجھ سے دعا مانگو، یہ صیغہ امر ہے ”ادعوا ربکم” اپنے رب سے دعا کروکہیں اپنے وعدے کو دعا سے مشروط کیا ”ادعونِی ستجِب لکم” مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 186 میں ارشاد ہوا اللہ تعالی قریب ہے اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہے، لہٰذا بندوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی دعوت قبول کریں اور اس پر ایمان رکھیں۔ اس کے برعکس، تکبر کرنے والے جہنم میں داخل ہوں گے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 110میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت دی گئی کہ “اللہ کو پکارو یا رحمان کو پکارو ” ۔ پس بابصیرت نظر سے دیکھا جائے تو پورے قرآن مجید میں دعا کا حکم اس طرح جاری و ساری ہے جس طرح انسان کے جسم میں خون رواں ہے۔اسلامی تہذیب و ثقافت کے پس منظر میں دیکھا جائے تو وظائف ومناجات کے اعتبار سے ماہ رمضان المبارک کی طرح ماہ ذوالحجہ کے بہت سے اعزازات ہیں ان ہی میں سے ایک عظیم اعزاز حج ہے جو دین اسلام کی عظیم ترین اجتماعی ، معاشرتی ، سیاسی اور تربیتی عبادت ہے اجتماعی اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے دنیا بھر کے صاحبان استطاعت مسلمانوں کو وادی مکہ پہنچنے کا حکم دیا معاشرتی اس اعتبار سے کہ خدا وند قدوس نے کم و بیش ایک ہفتہ ہر خطے ، ہر رنگ اور ہر نسل کے مرد و زن ، جواں و پیر پر مشتمل حجاج کو تنگ راستوں، چلچلاتی دھوپ کے میدانوں سے وادی منیٰ کی قربان گاہ تک اس طرح گزارنے کا حکم دیا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو حق تلفی نہ ہو بلکہ ہر سمت ایثار و خدمت کا جذبہ کار فرما نظر آئے، رب العزت نے ان ایام میں روز مرہ کی لازم و واجب عبادت یعنی پنجگانہ نمازوں کے علاہ دو رکعت نماز بھی بعنوان حج لازم قرار نہیں دی بلکہ ان ایام کو اس انداز میں بسر کرنے کا حکم دیا کہ یہاں پروان چڑھنے والے انسانی رویوں کے نتیجے میں انسانی اقدار اوج کمال کو پہنچیںاگرچہ حج کے عنوان سے یہ فقط 6دن ہی ہیں مگر ان دنوں کو اصطلاحی اعتبار اور مفہوم کے پس منظر میں کچھ نام دیئے گئے ہیں :8ذوالحج یوم الترویحہ9ذوالحج یوم عرفہ10ذوالحج یوم النحر اور11′ 12′ 13 ذوالحج کو ایام التشریق کہا جاتا ہے ۔خانہ کعبہ زمین پر بننے والا پہلا گھر ہے اور حج بھی قدیم عبادت ہے، آج کل کے باسہولت اور ترقی یافتہ زمانے میں ہمیں زندگی کی مشکلات کا اندازہ نہیں بس یوں سمجھ لیجئے کہ آج کی کچی آبادیوں کی جھونپڑی میں جو سہولتیں مل جاتی ہیں اس قدیم زمانے میں وہ کسی مالدار کو بھی میسر نہ تھیں اور کجا شہروں کی پر آسائش زندگی بس یوں کہیئے کہ مکہ کی سنگلاخ چٹانوں میں گزرتی زندگی بھی سنگلاخ تھی اس زمانے میں حجاج کرام آٹھ ذی الحجہ کو مکہ سے وادی منی جاتے وقت وافر مقدار میں پانی کا ذخیرہ کر لیتے تھے کیوں کہ وادی منی میں پانی دستیاب نہ تھا اس لیے اس دن کا نام یوم الترویہ یعنی (پانی بھرنے کا دن) پڑ گیا۔”یوم عرفہ” 9ذی الحجہ کو حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفات ہوتا ہے جس کے لیے حجاج کرام میدان عرفات میں پہنچتے ہیں اور زوال سے غروب آفتاب کے قریب تک یہاں پڑائو کرتے ہیں تو اس نسبت سے 9 ذوالحجہ کو ”یومِ عرفہ” کہا جاتا ہے ۔اس دن کے حوالے سے اسلام کے دعائیہ ادب کا دامن بہت وسیع ہے بالخصوص امام حسین علیہ السلام اور امام علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السلام کی اس دن کے لئے تعلیم کردہ دعائیں اپنی مثال آپ اور اہل تقوی و یقین کے معمول کا حصہ ہیں۔عربی لغت میں نحر کے معنی جانور کو ذبح کرنے کے ہیں اور بالخصوص یہ الفاظ اونٹ کو قرب گردن سے ذبح کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں حج کے موقع پر حاجی حضرات کے لئے قربانی کرنا لازم ہے پس 10 ذی الحجہ کو یوم النحر کہا جاتا ہے اور اس دن کو یوم النحر کہنے کی تاریخی وجہ یہ بھی ہے کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے 10ذوالحجہ کو تیسری بار خواب میں خود کو اپنے فرزند جناب اسماعیل کو ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو سمجھ گئے کہ خالق کائنات کو بیٹے کی قربانی مطلوب ہے پس آپ اسی روز اس حکم کی تعمیل پر کمربستہ ہوئے اس سبب سے بھی 10ذوالحج کو یوم النحر کہا جاتا ہے، یعنی قربانی کا دن۔11، 12 اور 13 ذوالحج کو ایام تشریق کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ عربوں کا دستور تھا کہ وہ قربانی کرنے کے بعد اس کا گوشت بعد کے دنوں میں استعمال کی خاطر محفوظ رکھنے کے لیے انہیں ایام میں دھوپ میں سکھا کر خشک کیا کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان ایام کا نام ایام تشریق پڑگیا اور یہ اصطلاحا ت آج بھی جاری و ساری ہیں اور اسلامی ثقافت کے فروغ کے لیے ان اصطلاحات کو سمجھنا اور فروغ دینا انتہائی اہم اور ضروری ہے۔روز عرفہ خالق و مخلوق کے درمیان راز و نیاز کا دن ہے پس اسلام کے دعائیہ ادب کا ایک اہم باب دعائے عرفہ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیم کردہ عظیم اور روح پرور دعائوں میں سے ایک ہے، جو خاص طور پر ایام حج میں یومِ عرفہ بعد از زوال پڑھی جاتی ہے۔ یہ دعا معرفتِ الہی، توحید، بندگی، شکر، توبہ اور انسان کی روحانی تربیت کا بے مثال خزانہ ہے۔مشہور و معروف دعائے عرفہ دو بزرگ ہستیوں امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام کی تعلیم کردہ ہیں زیادہ معروف دعا وہ ہے جو امام حسین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس دعا کو محدثین اور علما نے معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے، روایات کے مطابق امام حسین علیہ السلام نے یہ دعا میدانِ عرفات میں اپنے اہلِ بیت اور اصحاب کے ساتھ غروبِ آفتاب کے قریب پڑھی تھی دعائے عرفہ کی فضیلت و اہمیت کا ادراک کرنا اسلامی عرفان کے مشکل درجات میں سے ایک ہے اس دعا کے تمام پہلو توجہ طلب ہیں ان میں سے چند نکات اپنے قارئین کے لئے پیش کرتے ہیں 1۔ معرفتِ الہی کا عظیم خزانہ دعائے عرفہ انسان کو اللہ کی معرفت، اس کی نعمتوں کی پہچان اور اپنی عاجزی کا شعور دیتی ہے۔اس میں بندہ اپنی پیدائش سے لے کر زندگی کے ہر مرحلے میں خدا کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے۔2۔ توبہ اور مغفرت کا بہترین ذریعہ یومِ عرفہ کو دعا، استغفار اور توبہ کا دن کہا گیا ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص رحمت نازل فرماتا ہے۔ 3۔ امام حسین سے روحانی و علمی دعا کے ذریعے انسان امام حسین علیہ السلام کی معرفت، روحانیت اور خدا سے ان کے عشق کو محسوس کرتا ہے۔ 4۔ توحید کا عمیق عرفانی درس دعائے عرفہ میں اللہ رب العالمین کی وحدانیت ، قدرت اور ربوبیت کو انتہائی بلند اور ادبی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ 5۔ انسان شناسی اور خود شناسی یہ دعا انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ: وہ محتاج ہے اور اللہ بے نیاز ہے انسان کمزور ہے اور اللہ قادرِ مطلق ہے دعائے عرفہ کے اہم مضامین1۔ اللہ کی نعمتوں کا ذکراس دعا میں امام حسین علیہ السلام انسان کی تخلیق، پرورش، عقل، زبان، آنکھ، کان اور بے شمار نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ 2۔ توحیدِ خالص دعا میں اللہ کی وحدانیت کو نہایت گہرائی سے بیان کیا گیا ہے: تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ 3۔ فقرِ انسان اور غنائے الہی یہ دعا بندے کو اپنی بے بسی اور خدا کی بے نیازی کا احساس دلاتی ہے۔ 4۔ محبتِ الہی دعائے عرفہ میں خدا سے عشق اور قربِ الٰہی کی کیفیت نمایاں ہے۔5۔ توبہ واستغفار بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے۔ 6۔ آخرت کی یاددعا میں قیامت، حساب اور نجات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ دعائے عرفہ کی ادبی و عرفانی خصوصیات دعائے عرفہ فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے عرفانِ اسلامی کا عظیم خزانہ ہے روحانی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے دل میں خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے بہت سے علما وعرفا نے اسے اسلامی عرفان کا ایک بلند ترین نمونہ قرار دیا ہے۔ دعائے عرفہ صرف ایک دعا نہیں بلکہ: معرفتِ خدا کا درس انسان کی حقیقت کی پہچان توبہ وبندگی کا راستہ عشقِ الہی کا پیغام اور فرزند رسول امام حسین علیہ السلام کی روحانی تعلیمات کا آئینہ ہے۔ پس اہلِ ایمان کو چاہیے کہ یومِ عرفہ کے اعمال میں خاص اہتمام سے اس دعا کی تلاوت کریں اور کے اسرار ورموز سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو اسلامی زندگی میں ڈھالنے کی علمی، فکری اور عملی کوشش کریں۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں