دنیا وفا، نباہ اور ازدواجی اخلاص کی کوئی روشن مثال دیکھنا چاہے تو رسول اللہ ۖ کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی زندگی کو پڑھے۔سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے ہوا، جو مکہ کے معزز، شریف اور دیانت دار تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ دونوں کے درمیان محبت، اعتماد اور ایک خوبصورت گھریلو زندگی قائم تھی۔پھر نبوت کا دور آیارسول اللہ ۖ مبعوث ہوئے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ایمان لے آئیںمگر ابو العاص رضی اللہ عنہ اس وقت ایمان نہ لائے۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک گھر دو راستوں پر کھڑا ہو گیاایک طرف باپ اللہ کے رسول ۖ دوسری طرف شوہر زندگی کا ساتھی مگر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے دین بھی سنبھالا اور وفا بھی نبھائی نہ تعلق توڑا، نہ صبر چھوڑا، نہ دعا کا دروازہ بند کیاپھر غزو بدر آیاابو العاص رضی اللہ عنہ کفار کے لشکر کے ساتھ شریک ہوئے اور مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ مکہ میں خبر پہنچی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے فدیہ بھیجا اور اس میں وہ قیمتی ہار بھی شامل تھا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیٹی کو دیا تھا۔جب رسول اللہ ۖ کی نگاہ اس ہار پر پڑی تو آپ ۖ کی آنکھیں نم ہو گئیںیہ صرف ہار نہیں تھایہ ماں کی یاد بھی تھی اور ایک بیوی کی خاموش وفا بھی رسول اللہ ۖ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو ابو العاص رضی اللہ عنہ کو رہا کر دو چنانچہ وہ رہا ہو گئے۔اس کے بعد جدائی کا دور شروع ہواسیدہ زینب رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ آ گئیںاور ابو العاص رضی اللہ عنہ مکہ واپس چلے گئے پھر سالوں کا ایک طویل فاصلہ شروع ہوایہ وہ زمانہ تھا جب دل قریب تھے مگر راستے جدا تھے اور ایک عورت خاموشی سے اپنے شوہر کی ہدایت کے لیے دعا کرتی رہی نہ شکوہ کیا، نہ تعلق توڑا، نہ امید ختم ہونے دی پھر ایک رات کا واقعہ ہے ابو العاص رضی اللہ عنہ شام کے سفر سے واپسی پر مدینہ کے قریب پہنچے تو ایک قافلہ مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا۔ وہ کسی طرح بچ کر رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے رات گہری تھی مدینہ منورہ خاموش تھااور برسوں بعد ایک دروازے پر دستک ہوئی وہ دروازہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تھااور یہاں ایک نہایت دل چھو لینے والا لمحہ آتا ہے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا گھر کے اندر تھیں پردہ حائل تھااور فجر کے بعد کی فضا تھی اچانک پردے کے پیچھے سے آواز آئی:میں ابو العاص کو امان دیتی ہوںیہ آواز مسجد نبوی تک پہنچی لوگ ٹھہر گئے ایک دوسرے کی طرف دیکھایہ کس کی آواز ہے؟رسول اللہ ۖ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:تم نے سنا ہوگا یہ میری بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کی آواز ہے اس ایک جملے میں باپ کی شفقت بھی تھی اور بیٹی کی عزت بھی رسول اللہ ۖ نے اس امان کو قبول فرمایاابو العاص رضی اللہ عنہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے لیکن وہ واپس مکہ گئے لوگوں کی امانتیں ادا کیں ہر حق واپس کیااور پھر اسلام قبول کر کے مدینہ منورہ لوٹ آئے یوں برسوں کی دعا قبول ہوئی انتظار مکمل ہوا اور وفا کامیاب ٹھہری پھر رسول اللہ ۖ نے دونوں کو دوبارہ جمع فرما دیاآج اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں جہاں رشتوں میں کمزوری، طلاق کی شرح میں اضافہ اور برداشت کی کمی بڑھتی جا رہی ہے تو ایسے وقت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفا، اور سیرتِ طیبہ ۖ کی تعلیمات ہمارے لیے رہنمائی ہیں عورت کے لیے زینب رضی اللہ عنہا کی زندگی ایک پیغام ہے اور مرد کے لیے ابو العاص رضی اللہ عنہ کا کردار ایک سبق رشتے لفظوں سے نہیںصبر، دعا، برداشت اور وفا سے زندہ رہتے ہیںبیوی وفا نبی ۖ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا سے سیکھے اور شوہر وفا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے سیکھے۔




