190 ملین پائونڈ کیس’ سزا معطلی کی درخواستیں غیر موثر قرار

اسلام آباد (بیوروچیف) اسلام آباد ہائی کورٹ نے190ملین پائونڈ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کے لیے دائر درخواستیں نمٹا دی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیاہے کہ چونکہ اب اس کیس میں دائر مرکزی اپیلوں پر باقاعدہ سماعت شروع ہونے والی ہے، اس لیے سزا کی معطلی کے لیے دی گئی الگ درخواستوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اور وہ غیر موثر ہو چکی ہیں۔عدالت نے ان مرکزی اپیلوں پر سماعت کے لیے 7 مئی کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جہاں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ اس معاملے کی مکمل سماعت کرے گا۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا کی جانب سے یہ استدعا کی گئی تھی کہ سزا معطلی کی درخواستوں کو مرکزی اپیلوں سے پہلے سنا جائے، تاہم عدالت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جب مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں تو سزا معطلی کی درخواستیں اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں۔اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی گئی سزا معطلی کی درخواست کو بھی غیر موثر قرار دے کر ختم کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 190 ملین پائونڈ کے اس مشہور مقدمے میں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔اسی فیصلے کے تحت ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں