KPمیں دہشتگردی بڑھ گئی،وزیراعلیٰ کا ضلع بھی غیر محفوظ

اسلام آباد (عظیم صدیقی) خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹل’ ڈیرہ اسماعیل خان’ ہنگو’ ٹانک’ لکی مروت خطرناک زون میں آ گئے، ہنگو کے پہاڑ’ سکول’ حساس عمارات سکیورٹی فورسز اور پولیس نے واگزار کرا لیں بھارتی حمایت یافتہ افغانیوں نے مارٹر گولوں کا استعمال بھی کیا جس سے 7شہری شہید ہوئے جوابی کارروائی میں لگ بھگ ایک درجن کے قریب خطرناک دہشتگرد جہنم واصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں سینکڑوں دہشت گرد جدید اسلحہ سے لیس رات کی تاریکی میں پشاور جیسے حساس علاقے کی شاہراہوں اور دیگر سرحدی اضلاع میں پٹرولنگ کرتے ہیں۔ گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں، سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں جس سے یہ علاقے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ صوبائی حکومت مکمل طور پر بے بس ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ کا اپنا آبائی ضلع خیبر بھی اس وقت دہشتگردوں کے حصار میں ہے حالات بے حد خطرناک اور تشویشناک ہیں۔ ان دہشتگردوں کو بھاری سیٹلائٹ فونز لیزر اور دیگر حساس آلات میٹر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں