گلگت بلتستان وزیراعلیٰ کیلئے پیپلزپارٹی میں رسہ کشی

گلگت بلتستان (نامہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو حکومت بنانے کا گرین سگنل ملنے کے بعد مرکزی رہنمائوں نے گلگت میں ڈیرے ڈال کر مشاورت شروع کردی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کے لیے لابنگ بھی عروج پر ہے۔پیپلز پارٹی کے کئی مرکزی رہنما جن میں قمر زمان کائرہ، نیئر بخاری، ندیم افضل چن اور دیگر شامل ہیں، گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور حکومت سازی کے لیے مقامی رہنمائوں اور اراکین کے ساتھ ملاقاتیں اور مشاورت کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کامیاب ہونے والے اراکین نے وزیراعلی اور کابینہ میں شمولیت کے لیے لابنگ شروع کردی ہے اور پارٹی کے اندر اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو استعمال کررہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ جلد وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان ہو جائے گا۔ گلگت بلتستان کے سیاسی ماہرین کے مطابق واضح برتری کے باوجود بھی پی پی پی حکومت سازی میں تاخیر کررہی ہے جس کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اہم رہنما گلگت میں موجود ہیں، لیکن آزاد اراکین نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت 4 اراکین ایسے ہیں جو خود کو وزیراعلی کے امیدوار کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔ممتاز گوہر کے مطابق پی پی پی گلگت بلتستان کے صدر اور سابق اپوزیشن لیڈر امجد ایڈووکیٹ انتخابی مہم کے دوران ہی خود کو وزیراعلی قرار دیتے رہے ہیں اور اس وقت انہیں مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔امجد ایڈووکیٹ کے مقابلے میں 2 نوجوان امیدوار بھی ہیں، جن میں سابق وزیراعلی مہدی شاہ کے بیٹے توقیر مہدی شاہ اور سابق گورنر کے بیٹے سید جلال علی شاہ شامل ہیں، جبکہ عمران ندیم نے بھی خود کو اس دوڑ میں شامل کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں