فعال پولیسنگ اور محرم الحرام کا امن

محرم الحرام پاکستان کے مذہبی اور سماجی تناظر میں ایک منفرد اور نہایت مقدس حیثیت کا حامل مہینہ ہے۔ یہ صرف غم، صبر اور قربانی کی یاد تازہ کرنے کا وقت نہیں بلکہ بین المسالک ہم آہنگی، انتظامی تیاری اور موثر سکیورٹی انتظامات کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔ موجودہ پیچیدہ سکیورٹی ماحول میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام روایتی پولیسنگ سے کہیں بڑھ کر دور اندیشی، بین الادارہ جاتی تعاون اور عوامی شمولیت کا تقاضا کرتا ہے۔اسی تناظر میں فیصل آباد ریجن میں اختیار کیا جانے والا پولیسنگ ماڈل فعال اور پیشگی حفاظتی حکمت عملی کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا، پولیس سروس آف پاکستان کے 28ویں کامن سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر اور تجربہ کار افسر ہیں، جنہیں انٹیلی جنس، تفتیش، آپریشنز اور تربیت کے شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب، ڈی آئی جی ٹریننگ، ڈی آئی جی پنجاب ہائی وے پٹرول اور کمانڈنٹ پولیس اسکول آف انٹیلی جنس سمیت متعدد اہم ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں۔ ان متنوع تقرریوں نے انہیں جدید پولیسنگ اور ادارہ جاتی نظم و نسق کی گہری سمجھ عطا کی ہے۔آر پی او فیصل آباد کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد انہوں نے جرائم کی بیخ کنی اور عوامی تحفظ کو یکساں اہمیت دی ہے۔ ان کی قیادت میں خطرناک جرائم پیشہ گروہوں، منشیات فروشوں اور اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ متعدد جرائم پیشہ گینگز کا خاتمہ، ہزاروں ملزمان کی گرفتاری اور بھاری مالیت کی برآمدگیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ موجودہ پولیسنگ صرف وقوع پذیر ہونے والے جرائم پر ردعمل تک محدود نہیں بلکہ جرائم کے اسباب اور نیٹ ورکس کے تدارک پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔تاہم محرم الحرام کے دوران پولیسنگ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس مقدس مہینے کی حساسیت اور مذہبی اجتماعات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے آر پی او سہیل اختر سکھیرا نے ردعمل Reactive Policingپر مبنی حکمت عملی کے بجائے پیشگی اقدامات کو ترجیح دی ہے۔اس ضمن میں ان کی سرگرمیاں محض دفتری نگرانی تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور چنیوٹ کے مختلف اضلاع میں جلوسوں کے روٹس، حساس مقامات اور ممکنہ مسائل والے علاقوں کا خود دورہ کیا تاکہ انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے اور ممکنہ خطرات کا بروقت سدباب ممکن بنایا جا سکے۔ یہ عملی طرز قیادت اس حقیقت کی غماز ہے کہ موثر سکیورٹی منصوبہ بندی زمینی حقائق کے براہ راست مشاہدے کی متقاضی ہوتی ہے۔ اسی طرح عوامی رابطوں اور بین المسالک ہم آہنگی پر خصوصی توجہ بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ رہی ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علما کرام، عزادار تنظیموں، جلوسوں کے منتظمین، معززین، تاجروں اور کاروباری برادری کے نمائندوں سے مسلسل ملاقاتوں نے اعتماد سازی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تمام مکاتب فکر کے احترام اور محرم الحرام کے تقدس کے ادراک کا مظہر ہے۔جدید سکیورٹی تصورات میں بین الادارہ جاتی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی تناظر میں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مضبوط رابطہ اور موثر ہم آہنگی فیصل آباد ریجن کی سکیورٹی حکمت عملی کا نمایاں پہلو بن چکی ہے۔ بروقت معلومات کے تبادلے، مشترکہ رابطہ کاری اور پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔محرم الحرام کے لیے ترتیب دیا گیا جامع سکیورٹی پلان بھی اسی تیاری کا عکاس ہے۔ مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کے لیے ہزاروں پولیس اہلکاروں، رضاکاروں اور معاون عملے کو تعینات کیا گیا ہے۔ کنٹرول رومز، ٹریفک مینجمنٹ، روٹس کی نگرانی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات ایک ہمہ جہت سکیورٹی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔یہ تمام اقدامات وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے اس وژن سے بھی ہم آہنگ ہیں جس میں عوامی تحفظ، مذہبی ہم آہنگی اور موثر طرز حکمرانی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ محرم الحرام کے انتظامات کی نگرانی کے لیے صوبائی وزرا کی تعیناتی اس امر کی غماز ہے کہ حکومت پنجاب امن و امان کے قیام کو اجتماعی اور ادارہ جاتی ذمہ داری سمجھتی ہے۔آج کے دور میں پولیسنگ کی کامیابی کا معیار صرف گرفتاریاں اور برآمدگیاں نہیں بلکہ تشدد کے امکانات کو کم کرنا، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور عوامی اعتماد کو مستحکم کرنا بھی ہے۔ اس اعتبار سے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات دراصل ادارہ جاتی صلاحیت، عوامی اعتماد اور موثر حکمرانی کا امتحان ہوتے ہیں۔فیصل آباد ریجن کا تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فعال قیادت، عوامی شمولیت اور بین الادارہ جاتی تعاون کے ذریعے سال کے حساس ترین ایام میں بھی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہبی ہم آہنگی ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے، اس نوعیت کی کاوشیں مسلسل توجہ اور حمایت کی مستحق ہیں۔بالآخر مقصد چند دنوں کے لیے نظم و ضبط برقرار رکھنا نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا، ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں اضافہ کرنا اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ محرم الحرام اپنی تمام تر روحانی عظمت، احترام اور پرامن ماحول کے ساتھ منایا جا سکے۔ڈاکٹر محمد رضوان بھٹی پنجاب پولیس میں انسپکٹر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں اور دہشت گردی، انسداد دہشت گردی، انسداد انتہاپسندی اور پولیسنگ کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ ای میل
rizwanbh79@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں