ارشاد ربانی ہے کہ تم فرمائو” اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں ، بے شک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے” (سورة الشوری۔پارہ نمبر 25 )۔ سید دو عالم ۖ نے فرمایا” میری اہل بیت کی مثال تمہارے لیے حضرت نوح کی کشتی کی ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ بچ گیا اور جو سوار نہ ہوا ہلاک ہو گیا ” ۔مسلم شریف جلد نمبر 2صفحہ نمبر 279 ، مشکوة شریف صفحہ نمبر 567میں ہے حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم ۖ ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا ” اے مسلمانو! میں تمہارے اند ر دو بڑی عمدہ اور نفیس چیزیں چھوڑ رہا ہوں ایک اللہ کی کتاب کہ اس میں ہدایت بھی ہے اور نور بھی اور دوسری چیز میری اہل بیت ، تو جو مسلمان ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا”۔ غرضیکہ بتا نا یہ مقصود تھا کہ قرآن پاک کی عظمت کے ساتھ ساتھ اہل بیت کی تعظیم و تکریم مسلم امہ کے لیے اشد ضروری ہے ۔ ترمذی شریف میں حضور ۖ کا ارشاد پاک ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ حسن اور حسین دونوں میرے پھول ہیں اور جنتی جوانوں کے سردار ہیں ” ۔ مشکوٰة شریف میں حضرت اسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم ۖ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ ۖ اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ ۖ کمبل اوڑھے ہوئے تھے اور اس میں کوئی چیز ابھری ہوئی تھی تو میں نے رسول اکرم ۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ۖ میرے ماں باپ آپ ۖ پر قربان ، آپ ۖ کی آغوش مبارک میں کیا چیز ہے؟تو آپ ۖ نے کمبل مبارک کا گوشہ اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ ۖ کی آغوش مبارک میں حسنین کریمین جلوہ فگن ہیں ۔ پھر آپ ۖ نے دعا فرمائی ،اے اللہ میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما!مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ۖ نے فرمایا کہ جس نے حسن اور حسین دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ روایت ہے کہ آپ ۖ سجدے میں تھے کہ حضرت سیدنا امام حسین آپ کی پشت مبارک پر بیٹھ گئے تو آپ ۖنے طویل سجدہ فرمایا ۔ جب آپ پشت مبارک سے اتر گئے اور آپ ۖ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ اکرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ۖ ہمارے ماں باپ آپ ۖ پر قربان ہوجائیں کیا آپ ۖ پر سجدوں کو طویل کرنے کا حکم آگیا تھا یا آپ ۖ پر اس وقت وحی نازل ہو رہی تھی تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں تھی بلکہ میرا بیٹا حسین اوپر بیٹھ گیا اور میرے دل نے پسند نہ کیا کہ میں جلدی اٹھوں اور یہ گر جائیں ۔ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم دربار رسالت ۖ میں حاضر ہوئے اور دیکھا کہ شہزادہ حسین حضور ۖ کے مبارک کندھوں پر سوار ہیں تو سیدنا حضرت فاروق اعظم نے کہا کہ کتنی اچھی سواری ہے ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ سوار بھی کتنا اچھا ہے۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا کہ رسول اکرم ۖ حضرت امام حسین کے ہاتھوں کو پکڑے ہوئے اور امام عالی مقام نے پائوں نبی کریم ۖ کے پائوں پر رکھے تھے اور سید دوعالم ۖ فرمارہے تھے کہ ننھے قدموں والے چڑھ آچڑھ آ۔ چنانچہ شہزادہ حسین جسم اقدس پر چڑھنے لگے ،یہاں تک کہ اپنے قدم حضور ۖ کے سینے پر رکھ دیے پس آپ ۖ نے فرمایا منہ کھول ، آپ کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور منہ چوم لیا پھر کہا کہ اللہ اسے محبوب رکھ کیوںکہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں ۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ اپنے دونوں نواسوںکو سونگھتے تھے اور اپنے سینے سے چمٹایا کرتے تھے (ترمذی جلد دوم صفحہ نمبر 420)۔ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا ” اللہ تعالیٰ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائی اور مجھ سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے سبب محبت کرواور میرے اہل بیت سے میری خاطر محبت کرو” اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا اور ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں کہ ہم قریش کی جماعت سے ملتے اور وہ باہم گفتگو کر رہے ہوتے تو گفتگو روک دیتے ۔ ہم نے رسو ل اکرم ۖ کی بارگاہ میں اس امر کی شکایت کی تو آپ ۖ نے فرمایا ، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جب میرے اہل بیت سے کسی کو دیکھتے ہیں تو گفتگو روک دیتے ہیں ۔ اللہ ربّ العزت کی قسم ، کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو گا جب تک میرے اہل بیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کریں ۔ امام احمد نسائی، حاکم بھی اعلیٰ ترین سندوں کے ساتھ مذکورہ حدیث کو حضرت عباس سے ہی روایت کرتے ہیں ، اگرچہ خلاصہ یہی ہے ۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ نے فرمایا ” تم میں بہترین وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل بیت کے لیے بہترین ہے” اس حدیث کو امام حاکم نے بیان کیا ۔ حضرت ابو رافع سے مروی ہے اور اس حدیث کو امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ۖ نے فرمایا ” اے علی ! تم اور تمہارے چاہنے والے (قیامت کے روز) میرے پاس حوض کوثر پر چہرے کی شادابی کے ساتھ اور سیراب ہو کر آئیں گے۔ ان کے چہرے (نور کی وجہ سے) سفید ہوں گے ۔ اور بے شک تمہارے دشمن (قیامت کے روز) حوض کوثر پر میرے پاس بد نما چہروں کے ساتھ سخت پیاس کی حالت میں آئیں گے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا” اہل بیت مصطفی ۖ کی ایک دن کی محبت پورے سال کی عبادت سے بہتر ہے اور جو اسی محبت پر فوت ہوا تو وہ جنت میں داخل ہو گیا ” ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ رسول اکرم ۖ نے فرمایا”میں درخت ہوں اور فاطمہ اس کے پھل کی ابتدائی حالت ہے اور علی اس کے پھول کو مستقل کرنے والاہے اور حسن اور حسین اس درخت کا پھل ہیں اور (باقی صفحہ 2نمبر 3)
اہل بیت سے محبت کرنے والے اس درخت کے اوراق ہیں ۔ وہ یقینا یقینا جنت میں ہیں ” ۔
گویا یہ طے شدہ امر ہے کہ کوئی اہل بیت کی محبت کے بغیر مسلمان ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ اہل بیت سے محبت رسول اکرم ۖ سے محبت ہے اور رسول اکرم ۖ کی محبت اللہ کی محبت ہے ۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ نجات تب ہو گی جب رسول اکرم ۖ راضی ہوں گے اور نماز جیسی عظیم عبادت اگر تلاوت قرآن کے بغیر نہیں ہوتی تو آل محمد ۖ پر درود و سلام کے بغیر بھی نہیں ہوتی ۔ اس لیے استقامت ایمان کے لیے اہل بیت سے دل و جان سے محبت اور احترام کیا جائے۔اس سے اللہ تعالیٰ اور ہمارے آقا دوعالم ۖ ہم پر خوش ہوں گے ۔




