لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ ایک نیا اور سنگین چیلنج بھی سامنے آ رہا ہے جس کی بڑی وجہ شدید موسمی حالات ہیں۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران جہاں شہری ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں نصب طاقتور کمپیوٹر چپس کو فعال رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق حالیہ شدید موسمی حالات نے واضح کر دیا ہے کہ گرمی کی لہریں، سیلاب، تیز ہوائیں اور جنگلاتی آگ جیسے عوامل صرف عام زندگی ہی نہیں بلکہ اہم انفراسٹرکچر، جیسے کارخانوں، جوہری بجلی گھروں اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایئر کنڈیشنرز کے بڑھتے استعمال سے بجلی کے گرڈز پر اضافی دبا پڑتا ہے جس سے بلیک آٹ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق گزشتہ 3 برسوں کے دوران امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے متعلق انشورنس نقصانات میں شدید موسمی حالات سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اب کمپنی کے تقریبا ایک تہائی نقصانات کا تعلق براہ راست موسمی آفات سے ہے۔نئے ڈیٹا سینٹرز نسبتا سستی زمین کی دستیابی کی وجہ سے مضافاتی یا دیہی علاقوں میں تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں ماضی میں شدید موسمی حالات کا ریکارڈ محدود تھا۔ تاہم اب ان علاقوں میں اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے موسمی خطرات کی زد میں آسکتے ہیں۔ماحولیاتی خطرات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی فرسٹ اسٹریٹ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 79 فیصد ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش ایسے علاقوں میں واقع ہے جہاں سیلاب، شدید آندھیوں اور جنگلاتی آگ جیسے موسمی خطرات کا امکان زیادہ ہے۔ یہ عوامل نہ صرف آپریشنل رکاوٹوں کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ انشورنس اور مرمت کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔مارش رسک کے امریکی پراپرٹی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ڈویژن کے سربراہ جو میسجاک کا کہنا ہے کہ اب سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو متاثر کریں گی یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کمپنیاں ان خطرات کی نشاندہی، پیمائش اور انتظام کیسے کرتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت زیرِ تعمیر 64 فیصد ڈیٹا سینٹرز روایتی مراکز جیسے شمالی ورجینیا سے باہر نئے علاقوں، مثلا مغربی ٹیکساس، ٹینیسی، وسکونسن اور اوہائیو میں منتقل ہو رہے ہیں۔ ان علاقوں میں بگولوں، ژالہ باری اور تیز ہواں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے جن میں کولنگ سسٹمز، ٹاورز اور شمسی توانائی کے نظام نصب ہوں۔اے آئی سافٹ ویئر کمپنی رائزوم کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو مشعل تھدانی کے مطابق، شدید گرمی نہ صرف ڈیٹا سینٹرز بلکہ ان بجلی کے نظاموں کو بھی متاثر کرتی ہے جن پر یہ مراکز انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ معمول کے حالات میں بھی ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی توانائی کا تقریبا 40 فیصد حصہ صرف کولنگ سسٹمز استعمال کرتے ہیں، جبکہ شدید گرمی کے دوران یہ ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب اسی وقت گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنرز کے استعمال سے بجلی کی طلب بھی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ان کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کو سب سے زیادہ توانائی عین اس وقت درکار ہوتی ہے جب بجلی کے گرڈ کے پاس فراہمی کی گنجائش سب سے کم ہوتی ہے۔انہوں نے اٹلی کے شہر ٹورین کی مثال دی جہاں مئی میں درجہ حرارت تقریبا 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا جس کے نتیجے میں زیرِ زمین بجلی کی تاروں پر شدید دبا پڑا اور متعدد بار بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔ ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ وہ بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر اپنے ڈیٹا سینٹرز کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق مقام کے انتخاب، متبادل نظاموں اور ریئل ٹائم نگرانی کے ذریعے شدید گرمی اور موسمی خطرات سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب این ویڈیا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس کے نئے اے آئی سرورز کا کولنگ سسٹم 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پر کام کر سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، کولنگ سسٹم کے درجہ حرارت میں صرف ایک ڈگری اضافے سے توانائی کے اخراجات میں تقریبا 4 فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلیاں اے آئی انقلاب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہیں تاہم تیز رفتار تکنیکی ترقی مستقبل میں ان خطرات سے نمٹنے کے نئے حل بھی فراہم کر سکتی ہے۔




