خواتین کرکٹر انگلینڈ سے خالی ہاتھ واپس

پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم انگلینڈ سے خالی ہاتھ لوٹ آئی-آئی سی سی وومنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں قومی کرکٹرز کو پانچ لگاتار شکستوں کا سامنا پڑنا پڑا جبکہ آخری میچ میں نیدر لینڈ کے خلاف کامیابی ملی پاکستان خواتین کرکٹرز کی میگا ایونٹس میں ایسی بری کارکردگی پہلی بار دیکھنے کو نہیں ملی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کی کھلاڑی ہمیشہ سے گروپ کا ایک ہی میچ جیتتی آ رہی ہیں 12 جون سے شروع ہونے والے آئی سی سی وومینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے گروپ اے میں بھارت ،جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا سے میچز کھیلے14 جون کو بھارت سے میچ میں 64رنز سے شکست ہوئی ۔ جبکہ 17جون کو جنوبی افر یقہ کے خلاف دو وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا – بنگلہ دیش نے 23 رنز سے ہرایا جبکہ آسٹریلیا نے قومی ٹیم کو 113رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی اس میچ میں پاکستان کی ٹیم 200رنز کے ہدف میں صرف 86رنز پر ڈھیر ہو گئی پاکستانی ٹیم نے گروپ کا آخری میچ 27 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلا اس میچ میں گل فیروزہ نے 63رنز ناٹ آئوٹ بنائے اوپنر نے ایک اینڈ کو سنبھالے رکھا جبکہ دوسری طرف سے وکٹیں گرتی رہیں۔پاکستان کی ٹیم 126رنز بنا سکی جبکہ عائشہ ظفر نے بطور آل رائونڈر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 32رنز بنانے کیساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی آئوٹ کیا اس ٹورنامنٹ میں اگر دیکھا جائے تو بڑے میچز میں جس طرح کے بھارت، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ہیں ان کے خلاف ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام دکھائی دیا- بلے بازوں سے جس کارکردگی کی توقع تھی وہ پوری کرنے میں ناکام رہی پاکستان کی گزشتہ ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی کارکردگی کچھ اسی طرح کی تھی پاکستان نے ورلڈ کپ کے مقابلوں میں مسلسل سات میچوں میں شکست کھائی اور آٹھویں میچ میں ان کو کامیابی ملی- کپتان فاطمہ ثنا بطور قائد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکی جبکہ ان کے ساتھ دیگر کھلاڑیوں نے انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا- آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے مقابلوں میں پاکستان کی ٹاپ فور میں آج تک جگہ نہ بن سکی جس کی وجہ سے شائقین خواتین کرکٹ ٹیم سے مایوس دکھائی دے رہے ہیں کوچ وہاب ریاض، عبدالرحمن اور عمران فرحت نے کوشش ضرور کی مگر وہ قومی ٹیم کو عالمی سطح یا عالمی معیار تک پہنچانے کے لیے ناکام دکھائی دئیے – پاکستان اگلے برس ہونے والی پہلی آئی سی سی ویمن چیمپینز ٹرافی کے لیے بھی کوالیفائی نہیں کر سکا قومی ٹیم کا اگلا ٹارگٹ وومن ایشیا کپ ہے جہاں قومی ٹیم کو اپنی فٹنس اور فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے بیٹنگ آرڈر میں استحکام لانے کے لیے شائقین متعدد مرتبہ فاطمہ ثنا کو اوپننگ بھیجنے کی تجویز دے چکے ہیں قومی وومن کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کی ایک وجہ ڈومیسٹک سطح پر وومن ٹی ٹونٹی لیگ کا نہ ہونا ہے اگر اس ٹیم کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے تو ان کی ٹریننگ بھی عالمی معیار کی ہونی چاہیے ہماری کھلاڑی کوشش ضرور کرتی ہیں لیکن وہ کارگردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتی جس سے قومی ٹیم جیت سکے قومی خواتین کھلاڑیوں کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے تمام سہولیات دیں مگر کوچنگ سٹاف ناتجربہ کار ہونے کی بنا پر کھلاڑی میگا ایونٹ میں کامیاب نہیں ہو سکیں -بعض شائقین تو اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ قومی خواتین کرکٹر پر لگایا گیا سرمایہ قومی خزانے پر بوجھ سمجھتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ہم نے عالمی سطح کے مقابلوں میں حصہ لینا ہے تو پھر ٹیم کی تیاری بھی اسی طریقے سے ہونی چاہیے ہم ہوم گرائونڈ میں تو چھوٹی ٹیموں کو بلا کر جیت جاتے ہیں لیکن جب ہمارا سامنا عالمی ٹیموں سے ہوتا ہے تو کارکردگی سے صفر ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں