وزیراعظم شہباز شریف نے استنبول میں پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں اور لازوال رشتے کی ایک تاریخ ہے۔ اس منفرد اور تاریخی تعلق کی بنیاد ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران رکھی گئی، علی برادران کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترکیہ کی جدوجہد کی حمایت کی۔ دونوں ملکوں کے تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مضبو ہوتے جا رہے ہیں۔ ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور پاکستان بھی دامے درمے قدمے سخنے ترکیہ کے ساتھ قدم سے قدم ملائے ہوئے کھڑا ہے دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بھی ثابت ہوئے ہیں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ہم نے خلوص نیت سے کوششیں کیں۔ صدر رجب طیب اردگان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کے کردار میں ملی۔ اﷲ کے فضل وکرم سے ایران امریکہ جنگ بندی ہو گئی۔ اب ضروری ہے کہ امن کے موقع پر بھرپور فائدہ اٹھائیں، امریکہ اور ایران کے صدور نے پاکستان کی ثالثی میں ایم او یو پر دستخط کئے، نئے امکانات کی دوطرفہ تعاون اور علاقائی خوشحالی کیلئے استعمال کرنا ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری اور ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری کیلئے ترکیہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے، وقت کے ساتھ بزنس ٹو بزنس مزید مؤثر ہو گا جب پاکستان پر جنگ مسلط ہوئی تو ہم نے اپنی خودمختاری اور وقار کا دفاع کیا۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان نے دشمن کو وہ جواب دیا جو تاریخ کا حصہ ہے۔ رجب طیب اردگان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ عالمی امن کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتہائی اہم ہے، امن اور خوشحالی کیلئے کوششوں کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے، امن ترقی اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ تجارت’ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافہ سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ ترکیہ پاکستان کی ہر شعبے میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے درمیان قلبی تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔ جنگ ہو یا قدرتی آفات ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ دوطرفہ تجارتی حجم کا 5ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف رکھنے پر ترکیہ کے بھی مشکور ہیں۔ پاکستان ترکیہ کی شراکت داری کو نئی جہت دیتی ہے۔ استنبول میں ترکیہ کے سرکردہ کاروباری گروپوں اور صنعتی تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداران نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں جن میں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور معیشت کے کلیدی شعبوں میں ترکی کی مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا ۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو ایک مضبوط اقتصادی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں بشمول توانائی’ کان کنی’ معدنیات’ انفراسٹرکچر’ میری ٹائم (بحری امور) ولاجسٹکس’ انفارمیشن ٹیکنالوجی’ ٹیلی کمیونیکیشن مینوفیکچرنگ’ زراعت اور نجکاری میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ کار بڑھانے کی دعوت دی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوط دیوار اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچ رہی ہے جب دنیا کی نظر پاکستان پر ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات اس بات کی بھی غمازی کرتے دکھائی دیئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور دونوں ملکوں کی عوام کے دل بھی ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہی تعلق مزید استوار بھی ہونگے۔




