امریکہ ایران جنگ شدید ہونیکا خطرہ بڑھ گیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکا ایران کے توانائی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ ایران پر مزید سخت حملے کریں گے۔امریکی میڈیا کے مطابق ان منصوبوں سے واقف دو امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو اسی ہفتے کے آخر میں کیے جا سکتے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ تنازعے کا کوئی حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں اور ان حملوں کو منسوخ بھی کیا جا سکتا دریں ثناء ۔تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا اسرائیل کے حملوں کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جامع منصوبے کے تحت جواب دیا جائے گا۔ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران کا ردعممل محدود نہیں ہوگا، اسرائیلی تنصیبات اور امریکی توانائی کا بنیادی ڈھانچا بھی ہدف ہوگا، خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ کے اعلی ترین کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اسرائیل کوخبردار کیا ہے کہ جارحیت کرکے بھاگنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ غلط اندازے لگا کر کی جانے والی کسی بھی کارروائی کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اس کے کرائے کے سپاہیوں کو اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کے فوجی سامان میں کفن شامل ہونا لازم ہے، ایرانی فوج کے پاس صلاحیت بھی ہے، ارادہ بھی، جامع منصوبہ تیار ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی اخبار نے دعوی کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا، امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، یہ حملے ہفتے کے آخر میں ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں