یوم استحصال کشمیر عالمی برادری کے ضمیر کو جنجھوڑنے کا موقع ہے (اداریہ)

یوم استحصال کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی ہر سطح پر سیاسی’ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ یہ دن عالمی برادری کو بھی یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر گزشتہ سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے مگر افسوس کہ عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کی بے حسی کے باعث آج تک اس کا منصفانہ حل سامنے نہیں آ سکا۔ کشمیری عوام اب بھی امن’ انصاف اور اپنے بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔ 5اگست کا دن کشمیری عوام پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کے حوالے سے ایک اہم دن ہے، آج سے 7برس قبل 2019ء میں اسی دن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35اے کو منسوخ کر کے جموں وکشمیر اور لداخ کے علاقوں کو بھارت میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کی۔ مودی کی بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیا اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس پر عالمی برادری بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام نے 5اگست کو یوم استحصال کے طور پر منا رہی ہے تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ بھارت نے ان کے مادر وطن پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیری اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی قبضے اور مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران کشمیریوں پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔ 1989ء سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں 96320 کشمیریوں کی شہادت ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں 22974 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ اس عرصے میں 11264خواتین کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے کارندے زیادتی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک لاکھ 71ہزار سے زائد کشمیری غیر قانونی طور پر گرفتار ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں اگست 2019ء سے اب تک 887 افراد شہید کیے جا چکے ہیں اور 25ہزار کے قریب کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے، 2019ء سے اب تک 19ہزار کے قریب غیر قانونی چھاپے مارے جا چکے ہیں اور اس دوران 1300 حریت پسند سرکاری ملازمین کو غیر قانونی طور پر نوکری سے نکالا جا چکا ہے اور انڈین سول سروس میں کشمیریوں کا کوٹا 50 فیصد سے 33 فیصد پر لایا جا چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے 60ہزار کنال زمین غیر قانونی طور پر ہتھیائی جا چکی ہے۔ بین الاقوامی برادری انسانی حقوق’ انصاف اور قانون کی حکمرانی کی بات تو کرتی ہے لیکن کشمیر کے معاملے میں اس کا کردار مؤثر دکھائی نہیں دیتا۔ اگر عالمی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل یقینی بناتے تو شاید یہ تنازع اتنا طویل نہ ہوتا۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ مودی سرکار نے پاکستان اور کشمیریوں کے اکٹھا ہو کر آواز اٹھانے اور عالمی برادری کے سخت دبائو کے باوجود کشمیر کو مستقل ہڑپ کرنے کے احکامات جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد جاری ہے اور پاکستان کی جانب سے مکمل ہم آہنگی سے کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ بھی نبھایا جا رہا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے عملی اقدامات کے تحت اور ٹھوس بنیادوں پر بھارتی مظالم روکنے اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، جس کے لیے عالمی قیادت اور نمائندہ عالمی اداروں کو مصلحت اور مفاہمت کے لبادے اتارنا ہونگے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر علاقائی اور عالمی امن واستحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔ یوم استحصال کشمیر صرف اظہار یکجہتی کا دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع بھی ہے۔ پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں مزید مؤثر بناتے ہوئے دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرتے رہنا چاہیے جبکہ بین الاقوامی برادری کو بھی اپنی بے حسی ترک کر کے انصاف پر مبنی مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہی رویہ خطے میں امن’ ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں