پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے امریکی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو معاشی استحکام’ صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کی اشد ضرورت ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اگر شفاف پالیسیوں’ سازگار کاروباری ماحول اور سرمایہ کار دوست اقدامات کو یقینی بنایا جائے تو پنجاب ملکی معیشت کی مضبوطی میں مزید موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے 30 رکنی امریکی کاروباری وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے 30 رکنی امریکی بزنس وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ امریکی وفد میں میڈیکل’ منرل’ مینوفیکچرنگ’ آئی ٹی’ انڈسٹری’ ہاسپٹلٹی’ انرجی’ الیکٹرونکس’ مارکیٹنگ سمیت مختلف شعبوں کی معروف کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ پنجاب حکومت اور امریکی کاروباری برادری کے درمیان باہمی سرمایہ کاری’ اقتصادی روابط اور پائیدار تجارتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر اتفاق بھی کیا گیا۔ پنجاب اور امریکہ کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی شراکت داری کے لیے پنجاب میں اقتصادی مواقع تلاش کیے گئے۔ امریکی کاروباری وفد نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ستھرا پنجاب پروگرام کو گیم چینجر قرار دے دیا۔ امریکی کاروباری وفد نے شریمپ فارمنگ کے تعاون میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔ امریکہ کے وفد کی پنجاب میں موجودگی امریکی سرمایہ کاروں کے بحال شدہ اعتماد کا اشارہ ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے پاکستان کے سب سے اہم اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے، پاک امریکہ تعلقات کے اگلے باب کو سرمایہ کاری’ ٹیکنالوجی اور جدت سے آگے بڑھنا چاہیے، پنجاب وہ انجن ہے جو پورے ملک کی ترقی اور نمو کو چلاتا ہے۔ پنجاب قومی جی ڈی پی میں 55اعشاریہ 7 فیصد حصہ ڈالتا ہے، زراعت میں پنجاب کا حصہ 57 اعشاریہ 5فیصد ہے اور اسے پاکستان کا فوڈ باسکٹ کہا جاتا ہے۔ پنجاب کی اہم فصلیں گندم’ چاول’ مکئی اور کماد ہیں۔ مینوفیکچرنگ میں پنجاب کا حصہ 48 فیصد ہے۔ سروسز کے شعبے میں پنجاب کا حصہ 57 اعشاریہ 4 فیصد ہے۔ پنجاب میں تقریباً 130 ملین یعنی 13کروڑ لوگوں کا گھر اور پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب کی 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ صوبے کے پاس ایک بہت متحرک’ پرجوش اور محنتی ورک فورس موجود ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم 20 اسپیشل اکنامک زونز اور دو ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی میزبانی کرتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو ون گورنمنٹ اور ون ونڈو حل پیش کرتے ہیں، اسپیشل اکنامک زونز 10سالہ انکم ٹیکس چھوٹ اور درآمد شدہ کیپٹل گڈز پر ایک بار کی چھوٹ پیش کرتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 20 فیصد سبسڈائزڈیز ریٹس دیئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے بہت سے پروجیکٹس تیار ہیں۔ امریکی سرمایہ کار صرف اعلانات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی بالادستی’ پالیسیوں کے تسلسل’ توانائی کی دستیابی’ ٹیکس نظام کی شفافیت اور کاروباری آسانیوں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پنجاب حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کرے، غیر ضروری رکاوٹیں دور کرے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھے اور ایسے منصوبوں کو ترجیح دے جن سے مقامی صنعت’ برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہو، اس کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اتنی ہی اہم ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ایک دوسرے کی تکمیل کر سکیں۔ مریم نواز شریف کی امریکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے، تاہم اس کی حقیقی کامیابی کا انحصار عملی نتائج پر ہو گا۔ اگر حکومت سرمایہ کاروں کو محفوظ شفاف اور مستحکم کاروباری ماحول فراہم کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، نئی صنعتیں قائم ہونگی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ملکی معیشت دیرپا استحکام کی جانب گامزن ہو سکے گی۔




