پشاور( بیورو چیف)مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گند م آٹے کے بحران اور اشیاء خوردونوش کی ملک کے اندرقیمتوں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں گندم کے آٹے کا بحران شاید تیل کے بحران سے بھی بڑا ہو چکا ہے جبکہ وفاقی حکومت عوام سے گندم بحران کے حوالے سے حقائق چھپا رہی ہے۔ سیزن کے شروع ہونے کے چند مہینوں میں ملک سے گندم کہاں غائب ہوگئی۔ کیا وفاق اور صوبائی حکومت کے پیداواری اعدادو شمار ٹھیک تھے اور کس کی کوتاہی کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے اہداف کے مطابق گندم خریداری کیوں نہیں کی اوروہ گندم کس کے پاس ہے۔ پنجاب حکومت نے بین الصوبائی گندم آمد و رفت پر پابندی لگا کر آرٹیکل 151کی خلاف ورزی کیوں کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صرف جولائی کے مہینے میں گندم کے قیمت میں 6.75 فیصد اور ایک سال میں 77 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اور صرف جولائی میں ٹماٹر کی قیمت میں 116 فیصد، سبزیاں 22 فیصد، آلو 21.5 فیصد، پیاز 20 فیصد، مرغی 19 فیصد، انڈے 14.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اشیاء خوردونوش قیمتوں میں اضافہ کی بنیادی وجہ ڈیزل کی قیمتوں میں 70 روپے فی لیٹر اضافہ ہے اور ڈیزل قیمت 70 روپے اضافے کے بعد 392 فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایل پی جی قیمتوں میں 51 فیصد اضافے سے کھانا پکانا مشکل ہوگیا ہے۔




