سیاست میں مختلف پارٹیوں کے کارکنان کے درمیان لفظی کھینچا تانی ، گولہ باری اور نکتہ آفرینی بلکہ چینی ہوتی رہتی ہے مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیونکہ دوسرا بندہ سامنے موجود نہیں ہوتا اس لیے حیا اور لحاظ عنقا ہو کر صورت حال پراگندہ اور کشیدہ تر ہو جاتی ہے۔
آج کے دور میں سیاسی مکالمہ نہ صر ف حکومتوں اور سیاسی پارٹیو ں میں ناپید ہو گیا ہے مختلف سیاسی جماعتوں اور انکے کارکنا ن کے درمیان بھی اس کا رواج نہیں رہا – لہذا فطری فاصلے کو سوکیا نہ پن ، دشمنی اور دشنام طراز ی نے آلودہ کررکھاہے۔
گو کہ ہر کسی کے پاس اپنے حصے کا سچ ہوتا ہے مگر سیاست اور سیاسی گفتگو کی یہی خوبصورتی ہوا کرتی ہے کہ مکالمہ میں ہر کسی کے اپنے دلا ئل ہوتے ہیں ۔ہر دلیل اور موقف اصل حقیقت کے کچھ نہ کچھ حصے پر مبنی ہوتا ہے – لہذایاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی گفتگو میں نہ کوئی مکمل درست ہوتا نہ دوسرا مکمل غلط۔
جب ہم مقابلہ کا میدان سجا لیتے ہیں تو یہ بات بہت پیچھے رہ جاتی ہے کہ سچ کیا ہے اور ملی جلی بات کون سی ہے – یہ بھی ملحوظ نہیں رہتا کہ بات مقصدیت پر ہو رہی ہے یا وقتی حکمت عملی پر۔
ردعمل کی نفسیات دماغ کو ماف کردیتی ہے – ساری توجہ دفاع اور فتح پر مرکوز ہو جاتی ہے – ذہنی پسماندگی اور اخلاقی پستی گھٹیا اور اوچھی حرکتوں کو سکہ رائج الوقت بنادیتی ہے۔ کئی شائستہ اور سلجھے ہوئے سیاسی کارکنان بھی اس رو میں نا بہ کر دشمن کے ہٹھیاروں سے لڑائی لڑنے لگتے ہیں۔
افسوس اس وقت ہوتا ہے جب بعض ذمہ داران بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں – شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر کوئی احمق ہی پھینکے گا – کیا تماشا ہے کہ سیاسی ماحول اس وقت احمقوں کی جنت بن چکا ہے اسی لیے معاشرہ جہنم بنتا جا رہا ہے۔
اختلاف رائے کا حسن اور کمال یہ ہوتاہے کہ معاملہ زیر بحث کا ہر پہلو سامنے آکر تصویر مکمل ہونے لگتی ہے اور سلیم الفطرت لوگ سچائی کو پالیتے ہیں باہمی تعلقات کی خرابی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی صورت قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی – نہ ہی کوئی نظروں سے گرتا ہے نہ کسی سے نظریں چرانی پڑتی ہیں – یہ ہے سلیقے سے کئے گئے اختلاف رائے کا حسن – اسی اختلاف رائے کو امت کیلئے رحمت گردانا گیا ہے۔
اختلاف رائے کا جمال ہے کہ دوسرے کو اختلاف رائے کا حق بھی دینا چاہیے اور اسکے حق اختلا ف رائے کا دفاع بھی کرنا چاہیے ۔ یہی کمال ہے – اس سے فاصلے کم ہو کر قربتیں بڑھیں گی مخا صمت مفاہمت میں بدلے گی – اعلیٰ ظرفی باہمی احترام کو فروغ دے گی اور اتفاق رائے کا امکان بڑھ جائے گا کیونکہ عقل کو کام کرنے ، ذہن کو سوچنے سمجھنے اور دل کو متوجہ اور نرم ہونے کا موقع میسر آئیگا۔آمادگی کو یہ کشادگی لازمی درکار ہے۔
جسے سیاسی کارکن ہونے کے علاوہ داعی ہونے کا بھی دعویٰ ہے وہ ضرور سوچے کہ اس مزے میں پڑ کر نقصان کس کا کر رہا ہے ؟ – اسے تو جوڑنا تھا وہ توڑنے پر لگا ہوا ہے – سوچئیے ڈاکٹر اگر مرض کی بجائے مریض سے لڑنے لگ جائے تو خاک علاج ہو گا۔
رائے کیونکہ آدمی کی ہوتی ہے اس لیے اکرام آدمیت کو فوقیت ملنی چاہیے – اس کے لیے دوسرے کو اس کا حق اور راستہ دینا ہو گا ۔ اس کلچر کے فروغ کے لیے ذاتی حملوں سے بچنا اور ذاتیات سے نکلنا ہوگا – توازن ، برداشت اور شائستگی اس کا بہترین راستہ ہے اور ”تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں ” بہترین راہنمائی۔ وسعت پرواز کو وسعت نظر بھی چاہیے ۔موقف کی آبیاری چاہیے تو رواداری اپنائیں ۔راستہ دیں گے تو کوئی چل کے آ سکے گا ۔
تھوڑی نرمی ، تھوڑی مٹھاس ، تھوڑا کھردراپن
تعلقات میں بھی سرگودھے کا مکھن چاہیے




