اسلام آباد (بیوروچیف) ماہرین کا کہنا ہے دفاعی معاہدہ مشرقِ وسطی میںپاکستان کی دفاعی و سفارتی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اسلحہ و دفاعی صنعت کو بھی فائدہ متوقع،معاہدہ ترکیہ کیلئے اجتماعی مسلم دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے گا۔ سعودیہ کیلئے بڑھتے خطرات و امریکی سیکورٹی ضمانتوں کی حدود کے تناظر میں اثرورسوخ بڑھا نے کا وسیلہ ہے۔اٹلانٹک کونسل کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی نئی سکیورٹی صف بندی کی اہم علامت ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا، تاہم ماہرین اسے نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا باقاعدہ فوجی اتحاد قرار نہیں دیتے۔




