لاہور (بیوروچیف) پنجاب میں بھٹہ خشت پر بچوں سے مشقت کے مکمل خاتمے کے لیے نئے قواعد متعارف کرانے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ایٹ برک کلنز رولز 2026نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔محکمہ لیبر نے چائلڈ لیبر ایٹ برک کلنز رولز کا مسودہ پنجاب کابینہ کو ارسال کردیا ہے۔ کابینہ سے منظوری ملنے کے بعد نئے قواعد فوری طور پر نافذ کردیئے جائیں گے۔ نئے قوانین کا بنیادی مقصد بھٹہ خشت پر بچوں سے مشقت کی روک تھام اور اس حوالے سے نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔مجوزہ قواعد کے تحت بھٹہ خشت مالکان کے لیے بچوں کو کام پر لگانے سے متعلق پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے بچوں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور اس کی تصدیق کے لیے باقاعدہ طریقہ کار بھی قواعد کا حصہ ہوگا۔نئے نظام میں بچوں کی عمر کی تصدیق، ریکارڈ کی تیاری اور بھٹہ خشت پر چائلڈ لیبر کی نشاندہی کے لیے واضح طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ لیبر انسپکٹرز کو بھٹوں کے باقاعدہ معائنے اور بچوں کو کام کرتے ہوئے پائے جانے کی صورت میں کارروائی کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔لیبر انسپکٹرز کو چائلڈ لیبر سے متعلق شکایات کی تحقیقات کے لیے بھی واضح ذمہ داریاں تفویض کرنے کی تجویز ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کے طریقہ کار کو مزید واضح کیا جائے گا۔مجوزہ قواعد میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ لیبر کے کردار کو مزید موثر بنانے کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہم چلانے کے اقدامات بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔




