ٹیکساس (مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جی ایل پی۔ون ادویات کے ممکنہ فوائد کینسر تک بھی پھیلنے کے شواہد سامنے آنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اوزیمپک اور ویگووی جیسی ادویات کے استعمال اور بعض اقسام کے کینسر کے کم خطرے جبکہ کینسر کے دوبارہ نمودار ہونے کی شرح میں کمی کے درمیان ممکنہ تعلق دیکھا گیا ہے۔ٹیکساس کی ماہر بریسٹ کینسر سرجن ڈاکٹر لورین رورک کے مطابق 2026 کی امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق میں جی ایل پی۔ون ادویات کے استعمال اور بریسٹ کینسر کے دوبارہ ہونے کی کم شرح کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد زیادہ تر مشاہداتی مطالعات پر مبنی ہیں، اس لیے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ جی ایل پی۔ون ادویات براہِ راست کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں یا کینسر کا علاج کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ان ادویات کے استعمال سے وزن میں کمی اور جسم میں دائمی سوزش کم ہوسکتی ہے، جبکہ اضافی جسمانی چربی کم ہونے سے ایسٹروجن کی مقدار میں بھی کمی آسکتی ہے۔ یہ دونوں عوامل بعض اقسام کے بریسٹ کینسر کے خطرے اور نتائج سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ڈاکٹر لورین رورک کے مطابق تحقیق کے نتائج نے جی ایل پی۔ون ادویات اور کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق پر مزید تحقیق کی راہ ہموار کردی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے بے ترتیب اور کنٹرول شدہ طبی آزمائشوں کی ضرورت ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افراد صرف کینسر سے بچا یا علاج کی غرض سے اپنی مرضی سے جی ایل پی۔ون ادویات شروع نہ کریں اور ان کے استعمال کا فیصلہ ڈاکٹر سے مشورے کے بعد ہی کریں۔




