سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے (اداریہ)

جمہوریت میں سیاسی اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کا پالیسیوں’ حکومتی فیصلوں اور قومی معاملات پر مختلف موقف رکھنا جمہوری نظام کی خوبصورتی ہے، تاہم اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی’ نفرت اور انتقام میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی قیادت کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اقتدار عارضی جبکہ ریاست اور قومی مفاد مستقل ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا کہ (ن) لیگ نے ہمیشہ مخالفین سے اچھا سلوک کیا، انہوں نے آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ آزاد کشمیر کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں۔ انتخابات میں (ن) لیگ کو کامیابی ملی، آزاد کشمیر میں سڑکیں اور ہسپتال بننے چاہئیں۔ یہاں کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہو، ملک آگے بڑھ رہا ہے، شہباز شریف کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہباز شریف نے رکھی جسے مریم نواز نے آگے بڑھایا، آزاد کشمیر کے عوام پنجاب کی ترقی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ جس طرح پنجاب بدل رہا ہے اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی بدلنا چاہیے، اب عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی گنجائش نہیں ہے۔ ماضی میں آزاد کشمیر کی حکومت عوامی امنگوں پر پوری نہ اتر سکی۔ یہاں کے عوام کی فلاح وبہبود ترجیح ہے، مخالفین نے صرف نعرے لگائے، ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا، ملک پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے جا رہا ہے بہت جلد مسائل پر قابو پا لیں گے۔ جس طرح پنجاب بدلا اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی بدلیں گے۔ آزاد کشمیر کابینہ کا انتخاب میرٹ پر ہونا چاہیے۔ ہم نے اپنے منشور پر سو فیصد عمل کرنا ہے، آزاد کشمیر میں ترقیاتی سکیمیں بھرپور انداز میں شروع ہونی چاہئیں۔ سابق وزیراعظم پاکستان وصدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے اور اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ معاملات باہمی گفتگو وشنید سے ہی حل ہونے چاہئیں، اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی بہتری کی خاطر سوچنا ہو گا اور ملکی ترقی کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات کو بھلانا ہو گا تاکہ ملک درست سمت میں چلتا رہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں اختلافات بعض اوقات اس حد تک شدت اختیار کر جاتے ہیں کہ سیاسی مخالف کو اپنا دشمن تصور کیا جانے لگتا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی’ سخت زبان اور ذاتی حملوں سے نہ صرف سیاسی ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ عوام میں بھی تقسیم اور بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں پارلیمان اور مذاکرات کے فورم کو مؤثر بنائیں، ایک دوسرے کے مؤقف کا احترام کریں اور اختلافات کو آئینی وجمہوری طریقے سے حل کرنے کی روایت مضبوط کریں، پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام’ معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اختلاف کو دشمنی میں بدلنے سے گریز کرنا ہو گا۔ سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے حریف ضرور ہوں، دشمن نہیں، برداشت’ مکالمے اور باہمی احترام کی سیاست ہی ملک کو مضبوط’ جمہوریت کو مستحکم اور عوام کو ایک بہتر مستقبل فراہم کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں