مستقل ملازمت پر کنٹریکٹ سروس بھی پنشن کیلئے شمار ہو گی

اسلام آباد (بیورو چیف)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کی ملازمت پر کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بعد ازاں ریگولر کیے جانے کی صورت میں انکی سابقہ مسلسل کنٹریکٹ سروس کو پنشن اور دیگر مالی فوائد کے لیے شمار کیا جا سکتا ہے، محض کنٹریکٹ سروس کو نظرانداز کرکے پنشن سے محروم کرنا درست نہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دائر 20 سول پٹیشنز پر فیصلہ سنایا جسے جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ پنشن کوئی انعام، خیرات یا رعایت نہیں بلکہ ملازم کا حاصل شدہ حق ہے، جس کا مقصد ریٹائرمنٹ کے بعد عمر رسیدگی میں معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ کیس میں خواتین افسران کو پنجاب پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر 12 فروری 2010 کو سینئر ہیڈمسٹریس/ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین)گریڈ 18 کی آسامیوں پر کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی خدمات 10 ستمبر 2011 سے ریگولر کردی گئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ جب ملازمین کو مستقل نوعیت کی آسامیوں پر کام جاری رکھنے دیا گیا اور بعد ازاں انہیں ریگولر بھی کردیا گیا تو سابقہ کنٹریکٹ سروس کو مکمل طور پر ضائع کرنا قانونی جواز کے بغیر ماضی کی سروس سے محرومی کے مترادف ہوگا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کسی ملازم کی طویل عرصے تک کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات لینے کے بعد یہ مقف اختیار نہیں کرسکتی کہ وہ پنشن کے لیے مطلوبہ سروس پوری نہیں کرتا۔ قانون کی تشریح انصاف کے تقاضوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ محض تکنیکی بنیادوں پر ملازم کے جائز حقوق سے انکار کے لیے۔سپریم کورٹ نے پنجاب سول سروسز پنشن رولز اور سول سروس ریگولیشنز کی متعلقہ شقوں کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مسلسل عارضی یا کنٹریکٹ سروس کے بعد ملازمت کی تصدیق یا ریگولرائزیشن کی صورت میں سابقہ سروس کو پنشن کے حساب میں شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں