لاہور (بیوروچیف) لاہور ہائی کورٹ نے بغیر پی ایس وی لائسنس مسافر بس چلانے اور حادثے میں ہلاکت کے مقدمے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بغیر درست لائسنس مسافر بس چلانا عوامی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور ایسی ڈرائیونگ کے نتیجے میں حادثہ پیش آنے پر دفعہ 322 کے تحت قتل بالسبب کا جرم عائد ہوسکتا ہے۔جسٹس تنویر احمد شیخ نے ملزم ریاض حسین کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخوا ست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ صرف دیت کی سزا کا امکان کسی ملزم کو ضمانت کا حقدار نہیں بناتا۔ عدالت کے مطابق دفعہ 322کے تحت قتل بالسبب ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔تفصیلات کے مطابق 7صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ بغیر ڈرائیو نگ لائسنس یا غیر قانونی طریقے سے گاڑی چلانے کے نتیجے میں حادثہ ہو تو دفعہ 322 کا اطلاق ہوسکتا ہے۔، جبکہ قانونی لائسنس رکھنے والا ڈرائیور اگر غفلت یا لاپرواہی سے حادثے کا سبب بنے تو معاملہ قتلِ خطا کے زمرے میں آتا ہے۔واضح رہے کہ فیصلہ شجاع آباد میں بس اور موٹر سائیکل کے تصادم میں 4 نوجوانوں کی ہلاکت کے مقدمے سے متعلق جاری کیا گیا۔ عدالت کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک نوجوان کی اگلے ہی روز شادی طے تھی۔مزید بررآں، عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے پاس ایچ ٹی وی لائسنس موجود تھا، تاہم اس کے پاس پبلک سروس وہیکل چلانے کا مطلوبہ لائسنس نہیں تھا۔ تھانہ صدر شجاع آباد میں 15 نومبر 2025 کو درج ایف آئی آر میں ملزم کو بعد ازاں تکمیلی بیان کے ذریعے نامزد کیا گیا، جبکہ تفتیش کے دوران اسے بس ڈرائیور ثابت کیا گیا۔فیصلے میں سپریم کورٹ کے ماجد ندیم بنام ریاست کیس کا حوالہ بھی دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ابتدائی تفتیش میں تاخیر کی بنیاد پر ملزم کو بلاوجہ فائدہ نہیں دیا جاسکتا اور شدید غفلت و لاپرواہی سے ڈرائیونگ کے معاملے میں رعایت نہیں دی جا سکتی۔لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بغیر درست لائسنس گاڑی چلانا غیر قانونی عمل ہے اور اس کے نتیجے میں جان جانے کی صورت میں متعلقہ قانونی دفعات کا اطلاق ہوگا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں دیے گئے تمام مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔




