صفدرآباد میں کھلا پٹرول فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر

صفدرآباد(نامہ نگار)قانون کی ایسی کی تیسی ، صفدرآباد کے دلیر شہریوں نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔ریاست کے اندر حکومتی احکاما ت کو نہ مانتے ہوئے شہر بھر میں کھلا پٹرول بیچنے کا کاروبار شروع کر دیا ،اسسٹنٹ کمشنر بھی بے بس ہو گیا،کوئی پوچھنے والا نہیں اپنی مرضی اپنا قانون والا معاملہ عروج پر پہنچ گیا ۔ریلوے روڈ اور دیگر مقامات نزد یو بی ایل چوک پر منی پٹرول ایجنسیا ں وجود میں آ چکی ہیں جہاں کھلا پٹرول سر عام فروخت کیا جا رہا ہے ،عوام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن قانون کو تو اعتراض ہے نا ۔اس کا کون نوٹس لے گا ،جس نے نوٹس لینا ہے وہی بے بس ہے آخر یہ سب کیا ہے؟کیا پاکستان اتنا ہی بے بس ہے کہ قانون کی دم کو مروڑنے والے سر عام اپنی مرضیاں کرنے پراتر آئے انہیں کس نے روکنا ہے ۔حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب صفدرآباد میں سر عام پٹرول بیچنے والوں کا محاسبہ کریں ہاں اگر کسی با اختیار ادارے نے سر عام پٹرول بیچنے کی اجازت دی ہوئی ہے تو حکومت اس کا بھی نوٹس لے۔سر عام پٹرول بیچنا شہریوں کی نظر میں جرم ہے اگر قانون کی نظر میں یہ جرم نہیں تو چلنے دو ۔ایک شہری نے بتایا کہ کئی واقعات ہو چکے جس میں شہریوں کی جان بال بال بچی۔اگر شہر میںسی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہوں تو ہر چیز سامنے آ جائے گی لیکن ایسا ہے نہیں۔مختصر یہ کہ اگر یہ کام جائز ہے تو شہری خاموش اگر ناجائز ہے تو پلیز اسے روکا جائے ،شہری مطالبہ ہی کر سکتے ہیں اور بے چارے کیا کریں قانون کا احترام تو شہریوں نے ہر حالت میں کرنا ہے اور وہ کر رہے ہیں مگر قانون کو لاگو کس نے کرنا ہے اور اس پر عمل کس نے کروانا ہے مسئلہ یہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں