نئے کھلاڑیوں کے لیے سعید انور کا بیٹنگ سٹائل مشعل راہ ہے

لاہور (سپورٹس نیوز) 1977 میں جب عالمی اقتصادی بدلا اور داخلی خلفشار کے سبب ایران انقلاب کی طرف بڑھ رہا تھا تو، کراچی سے تہران منتقل ہوئے، انجینئر انور احمد نے دوبارہ نقل مکانی کا سوچا۔ مگر اب کی بار، جہاں وہ خود سعودی عرب منتقل ہو گئے، وہیں انھوں نے اپنے نو سالہ بیٹے کو کراچی اپنے آبائی گھر بھیج دیا۔تہران کی گلیوں میں فٹبال کھیلنے والا وہ بچہ کرکٹ سے اتنا ہی واقف تھا جتنا کوئی بھی ایرانی ہو سکتا تھا۔ لیکن عین 11 برس بعد وہی لڑکا قذافی سٹیڈیم لاہور کی کریز پر کھڑا، فقط اپنی کلائیوں کے بل پر وسیم اکرم کے سر کے اوپر سے سیدھے چھکے رسید کر رہا تھا۔وہ لڑکا بائیں ہاتھ کا دلکش اوپننگ بلے باز سعید انور تھا جس نے آنے والے برسوں میں ون ڈے اوپننگ کا تصور یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ون ڈے کرکٹ میں جارحیت کا جو رجحان بعد ازاں مائیکل سلیٹر، رومیش کالووتھرنا اور سنتھ جے سوریا نے اپنایا، اس کی طرح ڈالنے والے کوئی اور نہیں، پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین اوپنر سعید انور تھے۔پاکستان کے سابق کوچ ہارون رشید ڈومیسٹک کرکٹ میں یو بی ایل کے کوچ تھے جب پہلی بار ان کی نظر سعید انور پر پڑی۔ ایک سپارک نظر آ جاتا ہے پلئیر میں، اس میں بھی وہ سپارک دکھائی دیا مجھے.میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہارون رشید کا کہنا تھا کہ سعید انور تب کراچی ایسوسی ایشن کی انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے۔غالبا 1987 کی بات ہے، ایک انڈر 19 ٹورنامنٹ تھا اور ہم فائنل کھیلے، وہاں اس نے جو بیٹنگ ہمارے خلاف کی، میں نے تو وہیں سے پِک کر لیا کہ اس لڑکے میں فلیئر ہے۔ کٹ بہت اچھا کھیلتا تھا، مڈ وکٹ پر بڑا اچھا کھیلتا تھا۔عمران خان نے ہمیشہ انھیں برائن لارا کے ہم پلہ قرار دیا اور اس کی توجیہہ میں اس مہارت کا ذکر کیا جو ہر طرح کی کنڈیشنز میں سعید انور کا خاصہ تھی۔میں اسے (سعید انور) ٹنڈولکر اور برائن لارا کی بریکٹ میں اس لیے رکھتا ہوں کہ وہ اپنے دور میں کرکٹ بال کا سب سے اچھا ٹائمر ہے۔ایسا نہیں کہ نو سال کی عمر میں کراچی پلٹنے والے سعید انور واپسی پر فوری کرکٹ کی طرف مائل ہو گئے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں