ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے بیانات اور مطالبات سامنے آ رہے ہیں، نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت اپنی جگہ ایک اہم انتظامی اور عوامی مسئلہ ہے۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اس معاملے پر سنجیدہ اور قابل عمل بحث کے بجائے سیاسی لفظی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، نئے صوبے عوام کی سہولت’ انتظامی کارکردگی اور متوازن ترقی کے لیے بننے چاہئیں، نہ کہ سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لیے۔ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں میں لفظی جنگ جاری ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صوبے یا انتظامی یونٹس کا قیام ایک قومی مسئلہ ہے، اس میں کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام آباد میں ایک آزاد ادارہ قائم کیا جائے۔ یہ سب کچھ اٹھارویں ترمیم کے مرہون منت ہے، صوبوں کے قیام کیلئے متنازعہ قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔ جلد بازی میں صوبوں کے قیام کا فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے خلاف ہو گا۔ سیاسی بیان بازی ایک حد تک ہونی چاہیے اس بیان بازی سے کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے یہ موقع مل بیٹھنے کا ہے سیاسی جماعتوں کو ملک کی بہتری کی خاطر مثبت قسم کے فیصلے کرنے ہونگے کیونکہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آ رہا آئے روز سیاسی جماعتوں کے آپس کے جھگڑوں کے باعث ملکی انتظامی امور کو احسن طریقے سے چلانے کیلئے فہم وفراست کی ضرورت ہے اور یہ فہم وفراست اسی صورت ممکن ہے کہ جب ملک میں سیاسی جماعتوں کی آپس کے درمیان چپقلش ختم ہو گی نئے صوبوں کا قیام اسی وقت شرمندہ تعبیر ہو گا جب ملک کا عام شہری خوشحال زندگی بسر کر رہا ہو گا۔ نئے صوبوں کے قیام کے سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہو گا اور خصوصاً بھارت جیسے مکروہ اور عیار ملک کو کسی بھی قسم کا موقع نہیں دینا چاہیے تاکہ ملک میں بدامنی نہ پھیل سکے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حامیوں کا موقف ہے کہ بڑے صوبوں کی وسیع آبادی اور رقبے کے باعث دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات اور حکومتی اداروں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے برعکس بعض حلقے نئے صوبوں کے مطالبات کو سیاسی مفادات سے جوڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کو جذباتی نعروں اور الزام تراشی کے بجائے آئینی’ انتظامی’ معاشی اور عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے عوام سمجھتے ہیں کہ الگ صوبہ ان کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو گا تو اس پر کھلے ذہن کے ساتھ پارلیمانی اور قومی سطح پر غور ہونا چاہیے۔ نئے صوبوں کا قیام ایک حساس قومی معاملہ ہے جسے سیاسی محاذ آرائی کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ لفظی جنگ ختم کر کے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور ماہرین آئین’ انتظامیہ’ معیشت اور متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے قابل عمل لائحہ عمل تیار کریں۔ پاکستان کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انتظامی تقسیم کا ہر فیصلہ سیاسی فائدے کے بجائے عوامی سہولت’ قومی یکجہتی اور متوازن ترقی کو بنیاد بنا کر کیا جائے تاکہ پاکستان کا آنے والا مستقبل روشن ہو سکے۔




