کم نذرانہ دینے والے شہریوں،بھاری رشوت لینے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائیاں زور پکڑ گئیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پولیس کا کم نذرانہ دینے والے شہریوں کیخلاف اور اینٹی کرپشن کا بھاری رقوم بطور رشوت لینے والے پولیس ملازمین کیخلاف مقدمات کا اندراج زور پکڑ گیا۔ تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صوبہ کو کرپشن سے پاک بنانے کیلئے کرپٹ مافیا کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے جس پر محکمہ اینٹی کرپشن نے دیگر محکموں کی طرح فیصل آباد پولیس کے کرپٹ افسران واہلکاروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور شہریوں سے اندراج مقدمہ’ دوران تفتیش ملزمان کو مبینہ طور پر بے گناہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے سمیت دیگر معاملات پر بھاری رشوت وصول کرنے والے پولیس افسران واہلکاروں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔ اینٹی کرپشن پولیس نے ڈی ایس پی سول لائن کے ریڈر اختر علی کو 15ہزار روپے رشوت اور اے ایس آئی ناصر علی کو بھی 15ہزار روپے رشوت وصول کرتے پکڑا اور دیگر تھانوں میں اعلیٰ افسران کے نام پر سادہ لوح شہریوں سے رشوت وصول کرنے والے رضا کاروں کو بھی قابو کیا گیا۔ دوسری طرف تھانہ صدر پولیس نے فرنٹ ڈیسک کے اہلکار کو ایف آئی آر کی کاپی کیلئے ایک ہزار کی پیشکش کرنے والے نوجوان’ تھانہ سمن آباد میں موٹرسائیکل چھڑوانے کے عوض محرر کو ایک ہزار روپے بطور نذرانہ اور ٹریفک پولیس کے وارڈنز نے ایک ٹرک ڈرائیور کو ایک ہزار اور دوسرے مزا ٹرک کے ڈرائیور کو 200 روپے رشوت کی پیشکش کرنے پر گرفتار کر کے حوالات بند کر دیا اس طرح کے واقعات اب زور پکڑ رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے چند سو روپے کے عوض کام ہو جاتا تھا اب اس کے ریٹ بڑھ گئے ہیں اور شہریوں کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ضلعی پولیس نے معمولی رشوت ایک ہزار یا دو ہزار دینے والے سادہ لوح شہریوں کیخلاف رشوت ستانی ایکٹ کے تحت مقدمات کے اندراج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں