ملکی مصنوعات عالمی معیار کیمطابق بنانے کی ضرورت (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات میں اضافے کو ملکی معاشی ترقی کی بنیاد بنانے پر زور دیتے ہوئے ایک اہم سمت کی نشاندہی کی ہے۔ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات میں مسلسل اضافہ کیا جائے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے اور پاکستانی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے، برآمدات میں اضافہ نہ صرف زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ وزیراعظم نے ملکی معاشی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے بڑے اقدامات کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ برآمدات بڑھانے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا جس میں انہوں نے ملکی برآمدات میں اضافے کو معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ روایتی شعبوں کے ساتھ مزید شعبوں کو بھی عالمی منڈیوں میں برآمدات کے لیے تیار کیا جائے۔ تجارت کو متنوع بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ شعبوں اور صنعتوں کو برآمدی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ پاکستانی مصنوعات کا معیار عالمی تقاضوں کے مطابق بنانے’ کوالٹی انشورنس کا نظام مؤثر کرنے اور بین الاقوامی معیار وضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے برآمدات میں ویلیوایڈیشن پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قدر اور مسابقت دونوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے برآمدی صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی’ تحقیق اور جدت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔ ملکی معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے برآمدکنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کرنے اور برآمدی عمل کو مزید آسان’ تیز اور شفاف بنانے کی بھی ہدایت کی۔ برآمدات کے فروغ کے لیے منظور شدہ سٹریٹجک روڈ میپ پر عملدرآمد کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جبکہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی’ برآمدی شعبوں میں تنوع’ مصنوعات کے معیار میں بہتری اور کاروباری سہولت کاری سے متعلق مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ عالمی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے کے لیے متعدد دوست ممالک سے فری ٹریڈ ایگریمنٹس اور رعایتی نرخوں پر تجارت کے معاہدوں کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی ہارٹیکلچرل مصنوعات کو برآمدات میں شامل کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کو درآمدی شعبے کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ توانائی کی مسابقتی قیمت’ آسان کاروباری ماحول’ جدید ٹیکنالوجی’ ہنرمند افرادی قوت اور برآمدکنندگان کے لیے سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ روایتی مصنوعات کے ساتھ ساتھ آئی ٹی’ انجینئرنگ’ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل’ زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے تو پاکستان عالمی تجارت میں اپنا حصہ مزید بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان کو معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی کے لیے درآمدات پر انحصار کم کر کے برآمدات میں مسلسل اضافہ کرنا ہو گا۔ حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل’ نجی شعبے کا تعاون اور برآمدی صنعت کو سازگار ماحول کی فراہمی اس مقصد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا وزیراعظم کی ہدایت کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے تو برآمدات ملکی معیشت کے استحکام’ روزگار کے فروغ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں