وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے خصوصی پٹرول ریلیف پیکج کا اعلان ایک قابل تحسین اقدام ہے، مہنگائی کے موجودہ دور میں پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ریلیف فراہم کرنے کا مقصد عوام خصوصاً کم آمدن والے طبقے پر معاشی بوجھ کم کرنا اور انہیں کچھ سہولت فراہم کرنا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے عوام پر پڑنے والے اثرات کم کرنے کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف کے تحت موٹرسائیکل’ رکشہ’ چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑی استعمال کرنے والوں کو پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ یہ خصوصی ریلیف سکیم کے تحت موٹرسائیکل’ رکشہ اور چنگ چی سمیت دو اور تین پہینوں والی سواریوں پر ماہانہ 20 لیٹر پٹرول کیلئے فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائے گا جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت فراہم کی جائے گی۔ خصوصی ریلیف سکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل آج سے شروع کر دیا گیا ہے جبکہ رجسٹریشن کے طریقہ کار سے عوام کو آگاہی مہم کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے اثرات سے کم آمدنی والے صارفین کو تحفظ دینے کے لیے 75 ارب روپے کی ریلیف سکیم تیار کی ہے۔ تقریباً 1کروڑ 18لاکھ افراد اس سکیم سے مستفید ہونگے۔ 1کروڑ موٹرسائیکلوں’ 8لاکھ تھری وہیلرز رکشوں کے صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر ایندھن پر ریلیف دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ہر مستحق صارف کو 2,000 روپے ماہانہ فائدہ ہو گا۔ اس کے علاوہ 800 سی سی تک کی کاروں کے تقریباً 10لاکھ صارفین کو ماہانہ 30 لیٹر ایندھن پر ریلیف ملے گا، جس سے ہر صارف کو زیادہ سے زیادہ 3,000 روپے ماہانہ فائدہ ہو گا، حکومت نے اس اسکیم کے ماہانہ مالی اثرات کا تخمینہ 24.6 ارب روپے لگایا ہے، جس میں موٹرسائیکلوں کے لیے 20 ارب روپے’ تھری وہیلرز رکشوں کے لیے 1.6 ارب روپے اور چھوٹی کاروں کے لیے 3 ارب روپے شامل ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن نے سکیم کو تین ماہ تک چلانے کے لیے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے 75 ارب روپے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام تیار کرنے اور چلانے کے لیے وزارت اطلاعات وٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن کے لیے 1.73 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سرکاری سمری کے مطابق یکم جولائی سے 11 ستمبر 2026ء کے درمیان پٹرول کی قیمت میں 72 روپے فی لیٹر یعنی 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اسی عرصے کے دوران 87 روپے فی لیٹر یعنی 28 فیصد اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم آمدنی والے صارفین پر شدید معاشی دبائو ڈالا ہے۔ معاشرے کے غریب ترین طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار بھی وضع کیا جا رہا ہے۔ وزارت آئی ٹی پٹرولیم ڈویژن کو ملک کے مختلف پٹرول پمپس پر استعمال ہونے والے ٹوکنز کا روزانہ ڈیجیٹل ریکارڈ بھی فراہم کرے گی۔ پٹرول کی قیمتوں کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں’ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور کاروباری اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اس لیے پٹرول ریلیف پیکج کو شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے حقیقی ثمرات مستحق شہریوں تک پہنچ سکیں۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ریلیف کے ساتھ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام موجود ہو۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے مستقل خاتمے کے لیے بھی جامع اقدامات کرے۔ پٹرول ریلیف پیکج سے عام شہری کو فوری سہارا مل سکتا ہے، تاہم دیرپا معاشی بہتری کے لیے روزگار’ آمدن میں اضافے’ توانائی کے اخراجات میں کمی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس پیکج پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنا کر عوام کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔




