پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرتی جنگلات رقبے کے لحاظ سے محدود، مگر ماحولیاتی اور معاشی اہمیت کے اعتبار سے بے حد قیمتی ہیں۔ ہمارے شمالی پہاڑی علاقوں کے دیودار، چیڑ، کیل اور دوسرے مخروطی جنگلات، کشمیر کے جنگلات، بلوچستان کے قدرتی نباتاتی وسائل، دریائی جنگلات، ساحلی مینگرووز اور دیگر قدرتی جنگلات نہ صرف ہماری قومی دولت ہیں بلکہ ملک کے ماحولیاتی نظام کی بنیادی اکائیاں بھی ہیں۔ بدقسمتی سے جنگلات پہلے ہی غیر قانونی کٹائی، حد سے زیادہ چرائی، ایندھن کی لکڑی کے دبائو، زمین کے غیر سائنسی استعمال، آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں جنگلات میں بڑھتی ہوئی آتشزدگی ایک سنگین ماحولیاتی خطرے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان ایک جنگلاتی اعتبار سے غریب ملک ہے اور مختلف معتبر ذرائع کے مطابق ملک کے کل رقبے کا چھ فیصد سے بھی کم حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ایسے ملک میں قدرتی جنگلات کے چند ہزار ہیکٹر کا نقصان بھی معمولی واقعہ نہیں بلکہ قومی ماحولیاتی سرمائے کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔جنگلات کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل اور پیچیدہ ماحولیاتی نظام ہیں۔ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے کاربن کو ذخیرہ کرتے، آکسیجن پیدا کرتے، درجہ حرارت کو معتدل رکھتے، بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے میں مدد دیتے، مٹی کے کٹائو کو روکتے اور دریائوں، ندی نالوں اور آبی ذخائر کے لیے پانی کے نظام کو مستحکم کرتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں کے جنگلات خصوصا ہمارے آبی ذخائر کے لیے قدرتی حفاظتی حصار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر جنگلات ختم ہوں یا آگ سے شدید متاثر ہوں تو بارش کا پانی تیزی سے سطح پر بہتا ہے، مٹی کا کٹائو بڑھتا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور دریاں اور ڈیموں میں مٹی اور دیگر بقایات کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات ہزاروں اقسام کے پودوں، پرندوں، حشرات اور جنگلی حیات کا مسکن ہیں۔ جنگل کی آگ صرف درختوں کو نہیں جلاتی بلکہ ایک پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ شدید آگ سے حیاتیاتی تنوع، جنگلی حیات کے مسکن، مٹی کی زرخیزی، قدرتی تجدید اور مقامی آبادی کے روزگار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایف اے او بھی جنگلاتی آگ کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع، انسانی صحت، معاش، مٹی اور ماحولیاتی خدمات کو پہنچنے والے نقصانات کی نشاندہی کرتا ہے پاکستان میں جنگلات میں آگ کیوں لگتی ہے؟ جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کو صرف قدرتی عوامل سے منسوب کرنا درست نہیں۔ دنیا کے بیشتر علاقوں کی طرح پاکستان میں بھی انسانی سرگرمیاں جنگلاتی آگ کی ایک اہم وجہ ہیں۔ ایف اے او کے مطابق عالمی سطح پر جنگلاتی آگ کی بڑی تعداد انسانی سرگرمیوں، غفلت یا جان بوجھ کر آگ لگانے سے وابستہ ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی آگ کی وجوہات میں خشک گھاس اور پتے، بلند درجہ حرارت، طویل خشک موسم، تیز ہوائیں، انسانی غفلت، سگریٹ کے بجھے بغیر پھینکے گئے ٹکڑے، کیمپ فائر، زرعی فضلہ جلانا، چراگاہوں میں نئی گھاس کے حصول کے لیے آگ لگانا اور بعض اوقات جان بوجھ کر آگ لگانا شامل ہیں۔خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں خشک چیڑ کے پتے ، خشک گھاس اور دیگر نباتاتی مواد آگ کے لیے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ اگر ایک مرتبہ آگ بھڑک اٹھے تو تیز ہوا اور خشک موسم اسے انتہائی تیزی سے ایک بڑے رقبے تک پھیلا سکتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں پر ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں بھی انسانی سرگرمیوں، موسمی حالات اور کمزور فائر مینجمنٹ کو جنگلاتی آگ کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے، جبکہ سوات اور اس کے گردونواح کو آگ کے حوالے سے حساس علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے خطرہ مزید بڑھا دیا۔جنگلاتی آگ اور موسمیاتی تبدیلی کا تعلق دو طرفہ ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، خشک سالی، بارشوں کے غیر متوقع نظام اور طویل خشک موسم جنگلات کو آگ کے لیے زیادہ حساس بناتے ہیں۔ دوسری طرف جنگلات میں لگنے والی بڑی آگ سے کاربن اور دیگر گیسیں خارج ہوتی ہیں، جو عالمی حدت میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔ایف اے او نے بھی بلند درجہ حرارت اور خشک سالی کے باعث مستقبل میں نباتاتی آگ کے خطرے میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ ایسے حالات میں جنگلات کا تحفظ صرف محکمہ جنگلات کی ذمہ داری نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قومی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔ 2026ء کی آتشزدگیاں ایک اہم انتباہ حالیہ برسوں کے واقعات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ مسئلہ اب معمولی نہیں رہا۔ مثال کے طور پر مئی 2026ء میں کوٹلی ستیاں، راولپنڈی اور آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں جنگلاتی آگ کے بعد ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے سیٹلائٹ مشاہدات کی بنیاد پر 50 سے زیادہ مقامات پر تقریبا 9,000 ہیکٹر جنگلاتی منظرنامے کے متاثر ہونے کی اطلاع دی۔ ان علاقوں میں چیڑ اور ذیلی پہاڑی جھاڑیوں کے جنگلات بھی شامل تھے۔ایسے واقعات کو محض ایک موسمی حادثہ سمجھ کر بھلا دینا دانش مندی نہیں۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان جنگلاتی آگ کے لیے مستقل، سائنسی اور مربوط قومی نظام تشکیل دے۔صرف آگ بجھانا کافی نہیں ہمارے ہاں عمومی طور پر جنگل میں آگ لگنے کے بعد اسے بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن جدید جنگلاتی انتظام میں صرف آگ بجھانا حل نہیں۔ اصل کامیابی آگ لگنے سے پہلے خطرے کو کم کرنے میں ہے۔ ایف اے او کے مطابق مربوط فائر منیجمنٹ کے تصور میں پانچ بنیادی عناصر پر زور دیا ہے: جائزہ و نگرانی، خطرے میں کمی، تیاری، فوری ردعمل اور بحالی۔ پاکستان میں بھی اسی اصول کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔1۔ فائر ہاٹ اسپاٹس کی سائنسی نشاندہی سیٹلائٹ ڈیٹا،GIS، ریموٹ سینسنگ، موسم کے اعداد و شمار اور مقامی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے ایسے علاقوں کی نقشہ سازی کی جائے جہاں ہر سال آگ لگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔2۔ ابتدائی اطلاع کا موثر نظام جنگل میں آگ لگنے کے بعد پہلے چند گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس لیے جدید ابتدائی وارننگ کا نظام اور ابتدائی اگ لگنے کی نشاندہی کا نظام قائم کیا جائے جس میں سیٹلائٹ، ڈرون، واچ ٹاورز، کیمرہ سسٹمز، موسمیاتی ڈیٹا اور مقامی کمیونٹی کی اطلاع کو مربوط کیا جائے۔3۔ مقامی کمیونٹی کو شریک کیا جائے جنگلات کے قریب رہنے والی مقامی آبادی کو مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ حل کا حصہ بنانا ہوگا۔ مقامی افراد کو تربیت دے کر اور ابتدائی رسپانس ٹیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ ایف اے او بھی جنگلاتی آگ کی روک تھام کے انتظام میں مقامی آبادی کے کردار کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ مقامی لوگ آگ کے خطرے کو جلد محسوس اور بعض حالات میں ابتدائی سطح پر فوری کارروائی کر سکتے ہیں۔4۔ آگ کے خطرناک ایندھن کو کم کیا جائے۔ خشک گھاس، جھاڑیوں اور دوسرے قابلِ اشتعال نباتاتی مواد کے غیر معمولی جمع ہونے کو سائنسی طریقے سے منظم کرنا ضروری ہے۔ مناسب مقامات پر فائر لائنز، فائر بریکس اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔تاہم یہ کام ماہرینِ جنگلات کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ کسی ایسے طریقے سے قدرتی ماحولیاتی نظام کو نقصان نہ پہنچے جو خود مستقبل میں آگ کا خطرہ بڑھا دے۔5۔ عوامی آگاہی سب سے موثر ہتھیار ہے جنگلات میں جانے والے سیاحوں، مقامی آبادی، چرواہوں، لکڑی جمع کرنے والوں اور دیگر افراد کو واضح طور پر بتایا جائے کہ جنگل میں سگریٹ، ماچس، کھلی آگ اور جلتا ہوا کوڑا کس قدر تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے جنگلات کے داخلی راستوں، سیاحتی مقامات اور سڑکوں کے کنارے نمایاں آگاہی بورڈز نصب کیے جائیں۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مساجد، مقامی تنظیموں اور میڈیا کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا جائے۔ہمارا کردار کیا ہے؟یہ سوال سب سے اہم ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ایک عام شہری جنگلات کے تحفظ میں کئی طریقوں سے کردار ادا کر سکتا ہے-جنگل میں سگریٹ یا جلتی ہوئی چیز نہ پھینکے- جنگل میں غیر ضروری طور پر آگ نہ جلائے- کیمپ فائر کو مکمل طور پر بجھائے- جنگل میں آگ نظر آئے تو فورا متعلقہ حکام اور مقامی انتظامیہ کو اطلاع دے- سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے کے بجائے مستند معلومات شیئر کرے- مقامی سطح پر آگاہی اور شجرکاری مہمات میں حصہ لے- بچوں اور نوجوانوں کو جنگلات کی اہمیت سے آگاہ کرے- جنگلات میں غیر قانونی کٹائی یا جان بوجھ کر آگ لگانے کے واقعات کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک درخت لگانے میں چند منٹ لگ سکتے ہیں، مگر ایک جنگل کو دوبارہ تشکیل پانے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ محکمہ جنگلات اور حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ نوجوان نسل کو جنگلات کا محافظ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر ہم نوجوان نسل کو جنگلات کی اہمیت، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور جنگلاتی آگ کے خطرات سے آگاہ کر دیں تو ایک بڑی ماحولیاتی قوت پیدا کی جا سکتی ہے۔جنگلات بچانا دراصل اپنا مستقبل بچانا ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگل میں لگنے والی آگ صرف درخت نہیں جلاتی؛ یہ ہماری مٹی، پانی، حیاتیاتی تنوع، آب و ہوا، جنگلی حیات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔ لہذا ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ جنگلات صرف حکومت یا محکمہ جنگلات کی ملکیت یا ذمہ داری نہیں؛ یہ پوری قوم کا مشترکہ قدرتی اثاثہ ہیں۔آئیے عہد کریں کہ جنگلات کو آگ لگنے کے بعد بچانے کے بجائے آگ لگنے سے پہلے بچانے کی قومی حکمتِ عملی اختیار کریں گے۔جنگلات بچائیں، پانی بچائیں، مٹی بچائیں، حیاتیاتی تنوع بچائیںاور پاکستان کا مستقبل محفوظ بنائیں۔




