واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دور صدارت سے متعلق عوامی منظوری کی شرح ایک نئے سروے میں 30فیصد تک پہنچ گئی جبکہ معیشت سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر بھی بڑی تعداد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔امریکن ریسرچ گروپ کے تازہ سروے کے مطابق 68 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو ناپسند کیا جبکہ صرف 29 فیصد نے ان کے بطور صدر کام کرنے کے انداز کی منظوری دی۔دستیاب رپورٹ کے مطابق یہ شرح ان کی موجودہ اور سابقہ صدارتی مدت کے دوران اس سروے میں پہلی مرتبہ 30 فیصد سے کم ہوئی ہے۔سروے میں معیشت کے حوالے سے بھی منفی رائے سامنے آئی۔ صرف 26 فیصد افراد نے ٹرمپ کی اقتصادی کارکردگی کی منظوری دی جبکہ بڑی تعداد نے معیشت کی موجودہ سمت پر تشویش ظاہر کی۔رپورٹ کے مطابق مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے متعلق خدشات عوامی رائے پر اثر انداز ہورہے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معاشی دبا کے احساس کو بڑھایا ہے۔حالیہ دیگر سروے بھی امریکی عوام میں معیشت کے بارے میں منفی تاثر کی نشاندہی کرتے ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاس نے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے سروے میں سامنے آنے والی منفی تصویر کو مسترد کیا ہے اور امریکی معیشت کو مضبوط قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ مختلف اداروں کے حالیہ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت کے اعداد و شمار ایک جیسے نہیں ہیں؛ مثال کے طور پر 21 ستمبر کو جاری رائٹرز/اِپسوس سروے میں ان کی مجموعی منظوری 32 فیصد ریکارڈ کی گئی۔




