دہشت گردی کا خاتمہ’ وقت کی اہم ضرورت (اداریہ)

پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا بلکہ ملکی معیشت’ امن وامان اور ترقی کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے بعض واقعات کے پیچھے بیرونی عناصر کی معاونت موجود ہے اور بھارت ریاستی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے’ دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے اور مالی معاونت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہے، اس معاملے کا عالمی برادری کے سامنے دستیاب شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے جوانوں سے لے کر عام شہریوں تک ہزاروں پاکستانی دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہوئے۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف قومی عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پاکستان کی ریاستی پالیسی واضح ہے کہ ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسی طرح پاکستان بھی توقع رکھتا ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی بیرونی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا راستہ روکا جائے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر پروپیگنڈا اور دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے۔ جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ پاکستان بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ بھارت دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ پاکستان نے شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کیے ہیں۔ کلبھوشن یادیو اور نگھل گپتا کے مقدمات بھارت کے خلاف واضح ثبوت ہیں، صائمہ سلیم نے یہ بھی واضح کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر نہ ماضی میں بھارت کا اٹوٹ انگ تھا’ نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام بنیادی حقوق اور حق خودارادیت سے محروم ہیں۔ بھارت میں ہندو نظریے کو ریاستی پالیسی کاحصہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں اہم علاقائی ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لیے امن’ استحکام کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری کا دہشت گردی کے معاملے میں کسی ملک کے لیے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، جو اصول ایک ریاست کے لیے ہے وہی دوسری ریاست کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ پاکستان کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنے شہریوں کا تحفظ اور ملک میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی معاونت یا ریاستی سطح کے پروپیگنڈا کی سرگرمیوں کا جواب مؤثر سفارت کاری اور ٹھوس شواہد کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی کی مالی معاونت’ سہولت کاری اور منظم پروپیگنڈا کے تمام ذرائع کا خاتمہ کیا جائے اور تمام ممالک ایک وسرے کی خودمختاری کا احترام کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں