سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے خطرناک نتائج کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی امن وامان’ سلامتی وخودمختاری کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کہا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کے لیے کسی بھی خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی عرب پر حملوں کا معاملہ صرف دو فریقوں کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہتا، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کے اہم توانائی مراکز میں شامل ہے اور خلیج سے گزرنے والے بحری راستے عالمی تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ میزائل حملوں’ ڈرون کارروائیوں یا کسی دوسرے عسکری اقدام کے باعث تیل کی تنصیبات’ بندرگاہوں یا تجارتی جہازوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ حملوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ حوثی سعودی عرب پر حملے بند کر دیں۔ آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کی بھی آزادی ہونی چاہیے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا منتظر ہے۔ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی بند ہونی چاہیے۔ یہ باتیں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امن کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا اور امن کے لیے پاکستان کی کوششیں کارآمد بھی ثابت ہو رہی ہیں اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی جانب مذکور ہیں اور وہ خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے پیش پیش ہے اور ایران’ امریکہ کشیدگی کے خاتمہ کیلئے کوشاں رہے گا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو جارحیت کے ارادوں سے روکنا چاہیے اور سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کرنا عالمی قوانین کی خلاف بھی ہے پاکستان ایک عرصہ سے پڑوسی ملک کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا شکار بھی ہے جو کہ قابل مذمت ہے اسی طرح افغان طالبان کو بھی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی سے باز آنا چاہیے تاکہ علاقائی اور عالمی امن فروغ پا سکے۔ موجودہ صورتحال میں متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات اور دفاعی تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے امن اور مذاکرات کیلئے جو آواز بلند کی وہ قابل تحسین ہے۔ حوثیوں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ سعودی عرب پر حملوں سے نہ صرف سعودی مملکت بلکہ پورے خطے کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا میزائلوں اور ڈرونز کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینا ہو گا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ روکا جائے، حرمین شریفین سمیت شہری مقامات کی سلامتی یقینی بنائی جائے اور آبنائے ہرمز’ باب المندب سمیت تمام اہم بحری راستوں کو محفوظ اور کھلا رکھا جائے۔ پاکستان اور سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے مگر پائیدار حل سفارت کاری اور مذاکرات ہی سے نکلے گا۔ خطے کے عوام کو جنگ نہیں، امن چاہیے۔ عالمی معیشت کو بند راستے نہیں، آزاد تجارت چاہیے اور مقدس مقامات کو تنازعات سے مکمل تحفظ درکار ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔




