مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا ایک دیرینہ تنازع ہے جو کئی دہائیوں سے حل طلب چلا آ رہا ہے اس مسئلہ کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات متعدد مرتبہ کشیدگی کا شکار ہوئے اور خطے میں امن وسلامتی کو خطرات لاحق ہوتے رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم’ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں وکشمیر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مئی 2025ء کا پاک بھارت تنازع اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیر حل شدہ چھوڑنا خطرناک ہے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ’ اقوام متحدہ اور عالمی فورمز پر متفقہ موقف برقرار رکھیں، تنازعہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، بھارت کی جانب سے کوئی ملکی قانون’ انتخابی عمل’ عدالتی فیصلہ یا آبادی کے تناسب میں تبدیلی حق خود ارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کا متبادل نہیں ہو سکتا، ہم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط کشمیر میں مسلسل سیاسی اور شہری پابندیوں اور آبادی کے تناسب’ سیاسی اور ثقافتی حیثیت کی تبدیلی کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے ۔ انہوں نے او آئی سی رابطہ گروپ پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر جموں وکشمیر کے معاملے پر متفقہ موقف برقرار رکھیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ کشمیر کا مسئلہ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوطرفہ اختلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ حل طلب مسئلہ بھی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق اقوام متحدہ کی متفقہ قراردادوں کے مطابق ملنا چاہیے۔ دفتر خارجہ بھی اس موقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ جموں وکشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے۔ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کے تحت اپنے حق خودارادیت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور شہری آزادیوں’ صحافت اور انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کے خدشات بھی عالمی سطح پر پیش کیے۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت فوجی کشیدگی نے بھی یہ حقیقت سامنے رکھی کہ دیرینہ تنازعات اگر سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل نہ ہوں تو وقتاً فوقتاً نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کو غیر حل شدہ رکھنے کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک حساس اور دیرینہ مسئلہ ہے۔ محض کشیدگی کے وقتی خاتمے سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے بنیادی اسباب پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ مئی 2025ء کے واقعات نے بھی یہ ظاہر کیا کہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کس طرح خطے کے امن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ چنانچہ مسئلہ کشمیر کو مسلسل نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے پرامن’ منصفانہ اور قابل قبول حل کیلئے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ پاکستان کی جانب سے کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے اور عالمی فورمز پر مسئلہ اجاگر کرنیکا موقع برقرار ہے جبکہ دیرپا امن کیلئے مذاکرات’ سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو بنیادی راستہ قرار دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کیمطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔




