یادداشت بہتر بنانے کاطریقہ

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ہر فرد ہی کبھی نہ کبھی چیزیں، نام یا دیگر تفصیلات بھول جاتا ہے، بالخصوص اس وقت جب زندگی بہت زیادہ مصروف ہو۔ویسے تو کبھی کبھار ایسا ہونا باعث تشویش نہیں مگر اکثر ایسا ہونا یادداشت کی کمزوری کا اشارہ ہوسکتا ہے۔یادداشت کی کمزوری میں جینز بھی کردار ادا کرتے ہیں مگر غذا اور طرز زندگی بھی اس حوالے سے اہم ہیں۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ یادداشت کو بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا آسانی سے ممکن ہے۔درحقیقت معمے اور پہیلیاں حل کرنے سے یادداشت اور سوچنے سے متعلق مسائل کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جرنل لانسیٹ پرائمری کیئر میں شائع تحقیق میں 11 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔60 سے 85 سال کی عمر کے ان افراد کی دماغی صلاحیتوں کا تجزیہ تحقیق کے آغاز میں کیا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ وہ عمر میں اضافے کے ساتھ دماغی تنزلی کے شکار ہوچکے ہیں۔بعد ازاں ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ غذا، ورزش اور دماغ متحرک کرنے والی سرگرمیوں کا حصہ بنایا گیا، دوسرے گروپ کو جسمانی سرگرمیوں، اچھی غذا اور پہیلیاں یا معموں کی شکل میں دماغی ورزشوں کرنے کی ہدایت کی گئی۔تیسرے گروپ کو ان سرگرمیوں سے دور رکھتے ہوئے نرسوں کے ساتھ ٹیلیفون سیشنز کا حصہ بنایا گیا۔ایک سال بعد تینوں گروپس کی دماغی ٹیسٹوں میں کارکردگی بہتر ہوگئی اور دماغی تنزلی کا حصہ گھٹ گیا۔پہلے گروپ کے 28.4 فیصد افراد میں دماغی تنزلی کا سلسلہ تھم گیا، دوسرے گروپ کے 32.8 فیصد جبکہ تیسرے گروپ کے 31.6 فیصد افراد میں یہ بہتری نظر آئی۔مگر دماغی ٹیسٹوں میں دوسرے گروپ کے افراد نے سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا جبکہ معمولی دماغی تنزلی میں 8 فیصد کمی آئی۔اسی طرح یہ بھی دریافت ہوا کہ دوسرے گروپ کے شامل افراد میں سنگین دماغی تنزلی کی شرح میں 18 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔محققین کے مطابق 18 فیصد کمی بہت زیادہ اہم قرار دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دماغ لچکدار ہوتا ہے اور مسلسل متحرک رہنا پسند کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نتائج بہت زیادہ پرجوش کر دینے والے ہیں کیونکہ پہیلیاں اور معموں کو عادت بنانا بہت آسان ہوتا ہے اور اس سے دماغی صحت میں نمایاں فرق آسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں