خیبرپختونخوا میں فائنل رائونڈ شروع’ایمرجنسی کا نفاذ یا سہیل آفریدی کیخلاف عدم اعتماد

اسلام آباد (عظیم صدیقی) خیبرپختونخوا میں فائنل رائونڈ شروع’ رواں ہفتے کسی بھی وقت ایمرجنسی آرٹیکل 232 کانفاذ یا سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد’ گورنر راج کا فیصلہ بظاہر ڈراپ’ تحریک عدم اعتماد کیلئے رابطے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت ایمرجنسی کی بجائے تحریک عدم اعتماد کے لیے راضی’ وفاقی دارالحکومت میں پہلے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی بازگشت تھی اور اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے گورنر فیصل کریم کنڈی اور انجینئر امیر مقام نے وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ پیپلزپارٹی گورنر راج کی حامی نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ تجویز ڈراپ کر دی گئی، بعد میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی پر غور شروع ہوا اور ایڈمنسٹریٹر کیلئے پہلا نام ریٹائرڈ جرنیل احسان الحق کا آیا، یہ تجویز ابھی تک قائم ہے لیکن آئینی موشگافیوں اور عدالت میں چیلنج ہونے کی وجہ سے اس وقت سہیل آفریدی کو ہٹانے اور کسی متعدل کو لانے پر کام شروع ہو چکا ہے لیکن کوئی بھی اقدام اسی ہفتے کے دوران متوقع ہے۔دریں ثناء ۔پشاور (بیوروچیف) خیبرپختونخوا میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے اندر ممکنہ تبدیلی اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے لابنگ شروع ہوگئی ہے۔سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت پارٹی کے ناراض ارکان کے گروپس بھی متحرک ہوگئے ہیں جبکہ ممکنہ تبدیلی کی صورت میں وزارت عالیہ کے لیے ناراض گروپ اپنا امیدوار لانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر کسی وجہ سے سہیل آفریدی کو وزارت عالیہ سے ہٹانے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پی ٹی آئی کے اندر موجود ناراض گروپ اپنے گروپ سے کسی رکن کو وزیراعلیٰ بنانے کی کوشش کرے گا۔ناراض گروپ کے 30 سے زائد ارکان ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور گروپ کی جانب سے ممکنہ سیاسی تبدیلی کی صورت میں اپنے امیدوار کو سامنے لانے پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے وابستہ ارکان بھی متحرک ہوگئے ہیں۔گنڈاپور گروپ کی خواہش ہے کہ علی امین گنڈاپور دوبارہ وزیراعلی بنیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ان کے گروپ سے کسی دوسرے رکن کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کے گروپ نے ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں ممکنہ طور پر وزارتِ اعلیٰ میں تبدیلی کی صورتحال اور اپنے گروپ کے امیدوار کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔علاوہ ازیں یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ ناراض گروپ کو متحد رکھا جائے کیونکہ یہ گروپ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی دونوں کے ادوار کی کابینہ میں نظر انداز ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق اگر سہیل آفریدی اپنی وزارت اعلیٰ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے دوبارہ مہم شروع کی جائے گی اور وہی مہم ناراض ارکان اور علی امین گنڈا پور گروپ کی جانب سے بھی شروع ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں