زرعی زمینوں میں سیوریج کا گندہ پانی داخل ہونے سے کاشتکار پریشان

مکوآنہ (نامہ نگار)چک نمبر 229ر ب کے کاشتکاروں نے اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کے نام درخواست دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ان کی زرعی زمینوں میں سیوریج کا گندہ پانی جمع ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گندے پانی کی مسلسل موجودگی سے قیمتی زرعی اراضی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ زمینوں میں پانی کھڑا رہنے کے باعث فصلوں کی کاشت اور پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سیوریج کے گندے پانی کی نکاسی کے لیے تاحال کوئی موثر انتظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے پانی ان کی زمینوں میں جمع ہو رہا ہے۔ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو نہ صرف موجودہ فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ آئندہ فصلوں کی کاشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ مسلسل پانی کھڑا رہنے سے زمین کی زرخیزی متاثر ہونے اور زرعی رقبہ ناقابلِ کاشت ہونے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔متاثرہ کاشتکاروں نے مزید کہا کہ زراعت ان کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے اور زمینوں کو پہنچنے والا نقصان ان کے معاشی حالات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ سیوریج کے پانی کی مناسب نکاسی نہ ہونے کے باعث انہیں مالی نقصان کا خدشہ لاحق ہے، جبکہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتِ حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔کاشتکاروں نے اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ محکموں کو موقع پر بھیج کر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے اور سیوریج کے گندے پانی کی نکاسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر موثر انتظامات کیے جائیں، تاکہ زرعی زمینوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور کاشتکاروں کی فصلوں اور روزگار کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔متاثرہ کاشتکاروں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، تاکہ ان کی قیمتی زرعی اراضی کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے اور وہ بلا خوف و خطر اپنی فصلیں کاشت کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں